اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایک مصری مصنف نے بندرگاہ دمیاط میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کو ایک اہم اور تشویش ناک حادثہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اثرات مصر میں بڑے پیمانے پر تباہی اور حتیٰ کہ یورپ کو توانائی کی فراہمی میں خلل کا سبب بن سکتے تھے۔ ایہاب شوقی نے ایران کے ملوث ہونے سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایسے واقعے اور مصر کو علاقائی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش سے سب سے زیادہ فائدہ کس فریق کو پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک مصری مصنف کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دمیاط بندرگاہ کا واقعہ محض ایک محدود آتش زدگی نہیں تھا۔ ایک جہاز میں موجود مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار، دیگر جہازوں، گیس تنصیبات اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس سے اس کی قربت کے پیش نظر آگ کے پھیلنے اور سلسلہ وار دھماکوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ موجود تھا۔
مصنف نے اس واقعے کا موازنہ بیروت بندرگاہ کے دھماکے سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر آگ پھیل جاتی تو اس کے اثرات صرف مصر تک محدود نہ رہتے بلکہ یورپ کو توانائی کی برآمدات اور درآمدات بھی متاثر ہو سکتی تھیں۔ تاہم، یہ تمام نکات مصنف کے تجزیے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور حادثے کی اصل وجہ کے تعین کے لیے سرکاری تحقیقات کے نتائج کا انتظار ضروری ہے۔
شوقی نے ایران کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی لہر کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ بعض مغربی، عرب اور صہیونی ذرائع ابلاغ نے حادثے کے ابتدائی گھنٹوں ہی میں اسے ایران یا مزاحمتی گروہوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق مصری حکام، جن میں صدر، وزیر اطلاعات اور وزیر خارجہ شامل ہیں، نے حادثے کو کسی مخصوص فریق سے منسوب کرنے سے گریز کیا اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک انتظار پر زور دیا۔
مصنف نے مصر میں سامنے آنے والے عوامی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ ملک کی رائے عامہ کے ایک نمایاں حصے نے ایران کے خلاف عائد الزامات کو قبول نہیں کیا اور مصر کو علاقائی جنگ میں شامل کرنے کی کوششوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
شوقی نے اس سوال کو بھی اٹھایا کہ ’’اس حادثے سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے؟ اور امکان ظاہر کیا کہ اس واقعے کا مقصد مصر پر دباؤ بڑھانا، توانائی کی منڈی کو متاثر کرنا اور قاہرہ کو علاقائی تنازع میں شامل کرنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے مصر کو گیس کی برآمدات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے مختلف مفروضوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسرائیل، امریکہ، متحدہ عرب امارات، یوکرین اور حتیٰ کہ بعض داخلی عناصر کا ممکنہ کردار شامل ہے۔ تاہم، ان میں سے کسی بھی مفروضے کو ٹھوس شواہد اور سرکاری تحقیقات کے نتائج کے بغیر حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مصری مصنف نے آخر میں ایران کے ملوث ہونے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دمیاط کے واقعے کو خطے میں جاری وسیع تر جنگ اور علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی مبینہ کوششوں کے تناظر میں دیکھا ہے۔
آپ کا تبصرہ