7مارچ 2010ء کے ٣٢٥ سیٹوں والی عراقی پارلیمنٹ کے انتخابات کی دوڑ میں جب تک نتائج عراقی شیعہ جماعتوں کے حق میں تھے مغربی میڈیا دھاندلی اور انتخابات کے مخدوش ہونے کے تبصروں سے بھرا ہوا تھا۔ 16مارچ تک ہاتھوں سے ہونے والی 95فیصد گنتی میں موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کا انتخاباتی اتحاد "حکومت قانون مند" ٣٥ہزار ووٹوں سے اپنے دو قریب ترین حریف اتحادوں عمار حکیم کی سرکردگی میں شیعہ "قومی اتحاد" اور ایاد علاوی کی رہبری میں"العراقیہ" جس میں اہل سنت اور شیعہ سیکولر عناصر متحد ہیں سے آگے تھا، جبکہ یہ دو رقیب ایک دوسرے کے شانہ بشانہ تھے۔مگر 16مارچ کی شام اچانک اعلان کیا گیا کہ باقی ماندہ ووٹ مشینی گنتی کے ذریعے گنے جائیں گے اور الیکشن کمیشن کی تائید کے بعد اعلان کیا جائے گا۔اگلے دن یعنی 17مارچ کو غیر متوقع اعلان کے مطابق "العراقیہ" دو سیٹوں کی برتری سے پہلے نمبر پر تھا ،یعنی ایک دن کے وقفہ میں 20سیٹوں کا اچانک اضافہ ! جبکہ باقی اتحادوں کی سیٹیں کم نہ ہوئیں مگر "العراقیہ" پہلے نمبر پر آگیا اور  15 مارچ تک امریکہ، یورپ، سعودی اور بعثی گروہوں کی طرف سے جو مخدوش انتخابات کا ڈھول پیٹا جارہا تھا اب انتخابات ٹھیک اور قانون کے مطابق قرار دیے جانے لگے۔اپنے عزائم کی تکمیل کی خاطرامریکیوں اور علاقے کے دیگر بعثی اور بعثی نواز حکومتوں کے پیٹرو ڈالر اور بے تحاشا دہشت گردانہ کارروائیاں جہاں ماند پڑتی نظر آ رہی تھیں وہاں امریکی مشینی گنتی کا جھاڑو نسبتاً زیادہ کامیاب رہا اور امریکی کم از کم دنیا کو یہ یقین دلانے کے قابل ہو گئے کہ عراق میں دو سیٹیں زیادہ لیکر سیکولر سوچ ،مذہبی گروہوں کے مقابلے میں کامیاب رہی ہے۔ البتہ العراقیہ کی رہبری کرنے والے ایاد علاوی اور انکے ساتھ کچھ پرانے بعثی ٹولے سیکولر اور لادینی سوچ کے حامل ضرور ہیں، جبکہ اہل سنت کے گروہ جو الانبار، صلاح الدین اور نینواکے علاقوں میں موجود ہیں اور جہاں سے العراقیہ کو زیادہ ووٹ ملے ہیں کسی طرح بھی سیکولر یا لادینی سو چ کے حامی نہیں ہیں۔ اور انکا ووٹ محض قبائلی رسوم اور اتحاد کی وجہ سے العراقیہ کو ملا ہے۔اور کئی اھل سنت گروہ "قومی اتحاد"  اور "حکومت قانون مند" کے ساتھ بھی شامل ہیں۔بہرحال دہشت گردی، دھاندلی اور امریکی جھاڑو کے غبار سے گذر کر اس وقت ،اکثر بڑے گروپوں جن میں موجودہ صدر جلال طالبانی اور وزیر اعظم مالکی کے اتحاد شامل ہیں جو اس نتیجہ سے مطمئن نہیں، اپنی شکایات کی الیکشن کمیشن میں پیروی کے ساتھ ساتھ موجود حالات کے تحت گٹھ جوڑ میں بھی مصروف ہیں۔ نوری المالکی نے ساڑھے چھ لاکھ پول کئے گئے بوگس ووٹوں کے ثبوت کے ساتھ رٹ دائر کی ہے۔آخری نتائج باوجود اسکے کہ قانونأٔ ٤فیصد سے زیادہ دھاندلی کی شکایت موصول ہونے پر الیکشن کمیشن نتائج کا اعلان نہیں کر سکتا ،لیکن امریکی ہٹ دھرمی کے آگے  ١٠  فیصدی دھاندلی کی شکایت پر بھی  الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان کردیا ہے،اور آخری اعلان شدہ نتائج کے مطابق چار بڑے گروہ اس وقت، العراقیہ 91،حکومت قانون مند89 ،قومی اتحاد 72، اور کرد اتحاد (جلال طالبانی 44 اور کرد گوران 18) سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ 10سیٹیں چھوٹے گروپوں کے حصے میں آئی ہیں۔دوبڑے شیعہ گروپ جنکی 4سال قبل کے انتخابات میں پارلیمنٹ کی45فیصد سیٹیں تھیں اس دفعہ 50 فیصد سے زیادہ سیٹیں انکے حصے میں گئی ہیں، اسی طرح  اہل سنت کی سیٹوں میں بھی 4فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر 63فیصد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، ان میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں  61  فیصد رائے دھندگان نے جبکہ اھل سنت اکثریتی علاقوں میں 66فیصد رائے دھندگان اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صدر اور وزارت عظمیٰ کا انتخابی طریقہ کارعراقی آئین کے مطابق نئی پارلیمنٹ کو پہلے صدر مملکت کا دو تہائی اکثریت سے انتخاب کرنا ہوتا ہے اور پھر منتخب صدر وزارت عظمیٰ کے لیے ایک شخص کو ذمہ داری سونپتا ہے جسے ایک ماہ کے اندر پچاس فیصد جمع ایک ووٹ (163ووٹ ) اعتماد کے لئے درکار ہوتے ہیں۔اس صورتحال کے تناظر میں امریکی عراقی  عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور العراقیہ کے سیکولر ایادعلاوی کے وزیر اعظم بننے کا ظاہراً کوئی امکان نہیں۔ جبکہ مالکی اور عمار حکیم کے دو شیعہ اتحاد مجموعاً 163ووٹوں کے حامل ہیں،لہذا صدارتی دو تہائی اکثریت کے لئے دو شیعہ اتحاد اور کرد، یا دو شیعہ اتحاد اور اہل سنت، یا ایک شیعہ اتحاد، اہل سنت اور کرد اتحاد متوقع طور سے وجود میں آ سکتے ہیں۔ جبکہ کرد اور اہل سنت اکیلے یہ کام کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں اور انتخابات سے پہلے العربیہ ٹی وی چینل کو دیے انٹرویو میں اہل سنت اتحاد کے طارق الہاشمی واضح کر چکے ہیں کہ کرد صدر کو قبول نہیں کریں گے! اور عراق کے لئے عرب سربراہ مملکت کے حق میں ہیں۔اس وقت عمومی اور تاریخی پس منظر کے تحت ایک مرتبہ پھر دو شیعہ اور کرد اتحاد آپس میں ملتے نظر آرہے ہیں اور جلال طالبانی کے دوبارہ صدر بننے کے امکانات روشن ہیں۔ جبکہ طارق الہاشمی کے عمار حکیم کے اتحاد کے ساتھ رابطے کسی کروٹ بیٹھتے نظر نہیں آتے۔ کیونکہ ایک تو طارق الہاشمی قابل بھروسہ شخصیت نہیں جبکہ 4سال پہلے بھی نوری المالکی کی نئی حکومت کو اپنے 5وزراء نکال کر گرانے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔اس وقت وزیر اعظم کے لئے جو متوقع نام سامنے ہیں ان میں نوری المالکی، ابراہیم جعفری، جعفر الصدر( آیت اللہ شہید باقر الصدر کے بیٹے) ،عادل عبدالمہدی اور موجودہ وزیر داخلہ شہرستانی زیادہ مطرح ہیں۔ عراقی مذہبی شخصیت آیت اللہ سیستانی  نے تمام گروہوں کو مل کر قومی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے، اور عمار حکیم نے بھی بغیر کسی گروہ کو نظر انداز کئے قومی جذبے کے تحت کام کرنے کے عزم کا واضح اظہار کیا ہے۔دوسری طرف چند دن پہلے نیویارک ٹائمز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کے ایاد علاوی کے وزیر اعظم بننے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ انہیں تہران کی حمایت حاصل نہیں ہے جبکہ شیعہ ایک کمزور اتحاد کے تحت وزیر اعظم بنا تولیں گے ،مگر اس کے چار سال حکومت چلانے کے امکانات زیادہ دکھائی نہیں دیتے۔ اسی قسم کا زہریلا پروپیگنڈا سعودی چینل العربیہ نے بھی شروع کر رکھا ہے اور اس کے ڈائریکٹر نے سعودی اخبار "الشرق الاوسط" کے مضمون میں لکھا ہے:"آیندہ آنے والی حکومت کا مقدر بھی، موجودہ حکومت کی طرح تہران میں متعین ہوگا"۔ اس قسم کے شر انگیز بیان عراق میں امریکی سفیر اور علاقے کے دیگر ممالک کی طرف سے بھی عروج پر ہیں۔آخر ی خبروں تک نوری المالکی اور عمار حکیم کے اتحادوں کے درمیان موافقت کے امکانات کافی روشن ہیں اور آیندہ کے وزیر اعظم کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے یہی وجہ ہے کہ عراقی شیعہ علاقے بغداد اور کربلا میں ایک بار پھر سیاسی دبائو کے لئے ڈالر سپانسر دہشت گردی عروج پر پہنچ گئی ہے۔بہرحال عراقی اپنے اسلامی بھائی چارے اور دینی جذبے کے تحت اتنا سفر طے کر چکنے کے بعد اپنے روشن مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے عقل مندی اور جرأت مندی کا ثبوت دیں اور موجودہ حکومت کی طرح اگلی حکومت کی بنیاد بھی باہمی اتحاد پر رکھیں۔ کیونکہ جتنا عوامی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے اتنا ہی جلدی غیر ملکی دخل اندازی اور دہشت گردی کے ناسور سے نجات پائیں گے۔آخری عبرت آموز بات افغانستان کے صدر کرزئی کا دو ٹوک الفاظ میں انتخابات میں امریکی مداخلت ،گو کہ یہ انکشاف امریکہ یاترا سے پہلے اپنے سیاسی وزن میں اضافے کے لیئے تھا، اور اسی طرح عراقی انتخابات میں امریکی مشینی جھاڑو کا کرشمہ مغربی ڈیموکریسی کے پیچھے چھپے مکروہ عزائم سے پردہ اٹھانے کے لئے بڑی حد تک کافی ہیں، البتہ ان کے لئے جنکی آنکھوں پر حقیقت یاب عینک ہے ........../110