اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرا ہیوز نے یو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ "عالمی صمود فلوٹیلا" میں شرکت کے دوران سمندر میں 36 گھنٹے تک حراست میں رہیں، جس کے بعد انہیں مزید 24 گھنٹوں کے لیے سخت سکیورٹی والے ایک جیل منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غزہ کے عوام کی جانب سے محاصرہ توڑنے اور دنیا کی توجہ اس علاقے کے انسانی بحران کی جانب مبذول کرانے کی بار بار کی جانے والی اپیلوں کے جواب میں کیا گیا تھا۔
فلاحی ادارے "Palestine Aid" کی سربراہ نے اپنے ادارے کی انسانی امدادی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2024 سے مارچ 2026 تک ان کے ادارے نے غزہ میں 3 لاکھ 20 ہزار کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے ہیں۔
انہوں نے امدادی صلاحیت محدود ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
آئرش کارکن نے فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ "محورِ مزاحمت" کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے مطابق مزاحمت کی حمایت کو بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ظلم کے مقابلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ان کے بیانات فلسطینی عوام کی حمایت میں سرگرم عالمی یکجہتی تحریکوں کی مسلسل کوششوں اور غزہ کی صورتحال کی جانب عالمی رائے عامہ کی توجہ مبذول کرانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ