اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر اور سابق وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکہ کو ایک گہرے بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ ویتنام کی طویل اور مہنگی جنگ سے کیا۔
سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیون پنیٹا نے امریکی حکومت کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ طویل جنگیں عموماً اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتیں۔ ان کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ اب تک اس تنازع کے لیے کوئی واضح مقصد یا جامع حکمت عملی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کے مؤقف میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، جبکہ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتی مہنگائی نے امریکی شہریوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
سابق سی آئی اے سربراہ نے یاد دلایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ تنازع چار سے پانچ ہفتوں میں ختم ہو جائے گا، تاہم تقریباً پانچ ماہ گزرنے کے باوجود اس کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دیتے اور واشنگٹن کو اس بحران سے نکلنے کے لیے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بعض ریپبلکن رہنما بھی جنگ کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ سینیٹر شیلی مور کیپیٹو نے کہا کہ امریکی عوام اس جنگ سے تھک چکے ہیں، جبکہ سینیٹر جم جسٹس نے حالیہ دنوں میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کشیدگی پر خدشات ظاہر کیے۔
لیون پنیٹا نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ امریکہ کے پاس ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر موجودہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہ ہوئی تو بالآخر مذاکرات کی راہ اختیار کرنا ہی ایک ممکنہ آپشن بن سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ