23 جولائی 2026 - 16:15
حسن فضل اللہ: اسرائیل نے جنوبی لبنان کی مقبوضہ اراضی سے حقیقی پسپائی اختیار نہیں کی

لبنان کی پارلیمنٹ میں "وفاداری بہ مقاومت" بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی فوج نے ایک انچ مقبوضہ علاقے سے بھی پسپائی اختیار نہیں کی، جبکہ حکومت جسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے وہ محض ایک "میڈیا شو" اور "فرضی فتح" ہے۔ انہوں نے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کو بھی ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی مکمل آزادی تک مزاحمت کا کردار جاری رہے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری بہ مقاومت بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا کہ صہیونی حکومت جنوبی لبنان کی مقبوضہ اراضی کے ایک میٹر سے بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں صرف اتنا ہوا ہے کہ لبنانی فوج نے ان دیہات اور قصبوں میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے جو شہداء کی قربانیوں اور مزاحمت کی بدولت پہلے ہی آزاد تھے اور جن پر اسرائیل کبھی قبضہ نہیں کر سکا۔

انہوں نے زوطر الغربیہ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب لبنانی فوج اپنی ہی سرزمین پر آگے بڑھ رہی تھی تو اسرائیلی فوجیوں نے اس پر فائرنگ کی، لیکن بعض حکومتی عہدیداروں نے اسی واقعے کو اسرائیلی پسپائی کی کامیابی قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔

لبنانی حکومت کی "میڈیا مہم" پر تنقید

حسن فضل اللہ نے شہید شیخ محمد باقر علی کرکی، فرزند شہید کمانڈر حاج علی کرکی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل کے انخلا کے حوالے سے کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ حکومت عوام کو ایک خیالی فتح کا تاثر دینے کے لیے صرف میڈیا مہم چلا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ طرزِ عمل نہ صرف زمینی حقیقت تبدیل نہیں کرتا بلکہ شہداء کی قربانیوں اور مزاحمت کی جدوجہد کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔

مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ امریکہ کو اس مقصد کے حصول کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، وہ واشنگٹن کو محض "وہم" فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی پوری فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود مزاحمت کو غیر مسلح نہیں کر سکا، لہٰذا لبنان کے اندر موجود بعض سیاسی حلقے بھی اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق مزاحمت لبنان کے دفاع، سرزمین کی آزادی اور شہداء کے خون کی حفاظت کے لیے بدستور ایک قومی ضرورت ہے۔

مزاحمت جاری رہے گی، ایران کا کردار بھی اہم قرار

فضل اللہ نے کہا کہ مزاحمت کی ترجیحات میں اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، بے گھر افراد کی واپسی، متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور قیدیوں کی رہائی شامل ہیں، لیکن لبنانی حکومت اب تک ان میں سے کسی بھی محاذ پر قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض سیاسی، عدالتی اور سکیورٹی اقدامات ملک کو داخلی کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں، تاہم حزب اللہ لبنان کے استحکام کے لیے کسی بھی اندرونی تصادم سے گریز کرے گی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان کوئی بھی حتمی معاہدہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک اسرائیل جنوبی لبنان کی مقبوضہ اراضی سے مکمل انخلا نہیں کرتا، اور مزاحمت آئندہ بھی عوامی حمایت اور اپنی زمینی صلاحیت پر انحصار کرتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha