اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ سے وابستہ "وفاداری بہ مزاحمت" بلاک کے رکن علی فیاض نے اپنے بیان میں لبنانی حکام اور اسرائیلی رژیم کے درمیان مبینہ "فریم ورک معاہدے" پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان کے عوام پر اسرائیلی حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور مسلسل جارحیت، نیز سرحدی دیہات کی تباہی اور نذرِ آتش کیے جانے جیسے واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے جب لبنانی حکام نے اس معاہدے سے اتفاق کیا، جو ان کے بقول اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر ہر اعتبار سے باعثِ رسوائی ہے۔
علی فیاض نے کہا کہ موجودہ لبنانی حکام شکست خوردہ سوچ کے تحت فیصلے کر رہے ہیں اور عملاً اپنے ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حکام یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا مقصد لبنان کو اسرائیلی قبضے اور جارحیت سے نجات دلانا ہے، لیکن عملی طور پر ان کی پالیسیوں نے قبضے کو مضبوط کیا، اسرائیلی جارحیت کے لیے سیاسی جواز پیدا کیا، ملکی خودمختاری کو کمزور کیا، لبنانی عوام کے درمیان اختلافات کو گہرا کیا، داخلی استحکام کو نقصان پہنچایا اور قومی مؤقف کو مزید کمزور کیا۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے پیشِ نظر لبنان کو انتہائی احتیاط اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ لبنان سے متعلق ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر عمل نہیں کرتا، اسرائیل کے مفادات کے مطابق پالیسی اختیار کرتا ہے اور اسرائیلی رژیم روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، تو ایسے حالات میں یمن اور عراق کے مؤقف، ایران کے مستقل مؤقف کے ساتھ، خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
علی فیاض کے مطابق، یمن اور عراق نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو مزاحمت تنہا نہیں ہوگی اور لبنان کے دوست اس کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں گے۔
آپ کا تبصرہ