13 جولائی 2026 - 16:35
حسین جشی: "فریم ورک معاہدہ" لبنانی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ تعاون کی طرف لے جائے گا

لبنان کی پارلیمنٹ میں "وفاداری برائے مزاحمت" دھڑے کے رکن حسین جشی نے نام نہاد "فریم ورک معاہدے" پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی شقیں اسرائیل کے مفاد میں مرتب کی گئی ہیں اور یہ معاہدہ مزاحمت کے اسلحے کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی سے جوڑ کر لبنانی حکومت کو مزاحمت کے خلاف دشمن کے ساتھ تعاون کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے شہر رشکنانیہ میں شہدائے مزاحمت کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسین جشی نے خطے اور لبنان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد "فریم ورک معاہدہ" ایک ابتدائی معاہدہ ہے جو ان کے بقول لبنان کے تزویراتی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اس کی مخالفت اب صرف مزاحمتی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں وہ امریکی حمایت کے سہارے لبنان کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور مقبوضہ علاقوں میں اپنی آئندہ موجودگی کے بارے میں فیصلے کر سکے۔

حسین جشی نے معاہدے کی بعض شائع شدہ شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے "فوجی صف بندی میں تبدیلی" اور "آزمائشی علاقوں" کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ نکات لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتے، بلکہ مزاحمت کے اسلحے کو مذاکرات کا ایک بنیادی موضوع بنا دیتے ہیں۔

انہوں نے لبنانی حکومت کی مذاکراتی پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب تک کی سفارتی کوششیں نہ تو مقبوضہ لبنانی علاقوں کی آزادی یقینی بنا سکی ہیں اور نہ ہی اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

پارلیمنٹ کے رکن نے صدر اور وزیر اعظم لبنان سے مطالبہ کیا کہ وہ نام نہاد "فریم ورک معاہدے" کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کریں، اور اگر اس کی شائع شدہ شقیں درست ہیں تو اس عمل کو فوری طور پر ترک کر دیا جائے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مزاحمت اور اس کے حامی ایسی کسی شق پر عمل درآمد کی اجازت نہیں دیں گے جو ان کے بقول لبنان کی خودمختاری کو کمزور کرے، اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha