13 جولائی 2026 - 15:43
قائد عظیم کی شہادت ایرانی عوام اور امت مسلمہ بعثت کا آغاز تھی / کروڑوں حریت پسندوں کا تاریخی وداع استکبار کے خلاف جدوجہد کے لئے امت کے عزم کا اظہار

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کی شہادت اور تشییع و تدفین کے سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے اس واقعے کو اسلام، ملت ایران اور امت اسلامیہ کے لئے ناقابل تلافی نقصان، اور دو ملکوں کے پانچ شہروں میں کروڑوں انسانوں کی تشییع و وداع کو ـ ان کے خلف صالح کی قیادت میں ـ "امت کی بعثت" اور استکبار اور صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد کے امتداد کا عزم قرار دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، آیت اللہ رمضانی نے انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کی شہادت اور تشییع و تدفین کے سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے امت مسلمہ سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے، دنیا کے مسلمانوں کو تعزیت پیش کی۔

بیان کا مکمل متن:

بسم الله الرحمن الرحیم

﴿وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَٰئِکَ هُمُ الصِّدِّیقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا أُولَٰئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیمِ﴾ (النساء، 74)

عبد صالح، رسول اللہ اور علی و فاطمہ و حسن و حسین (صلوات اللہ علیہم) کے فرزند، عالم دین اور فقیہ ربانی، پیروان اہل بیت(ع) کے پے مرجع تقلید، مفکر، مجدد اور مصلح، قائدہ امت مسلمہ اور احرار عالم کے قائد، ولی فقیہ اور حاکم عادل، کبھی نہ تھکنے والے مجاہد، دشمن شناسی، مستضعفین اور خطے کی اقوام کے حامی و مدافع، استکبار کے خلاف جدوجہد کے علمبردار، فلسطینی کاز اور فلسطینی عوام کے ناصر و مددگار، مہدی منتظر (عجل اللہ تعالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیف) کے انتظآرِ ظہور کے پرچمدار، امام شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت ایک غم انگیز نقصان اور اسلام میں ـ ملت ایران کے لئے بھی اور امت مسلمہ کے لئے ـ ایک ناقابل ترمیم شگاف تھی۔

ایران اور عراق کے عوام اور امت مسلمہ کے فرد فرد کا تاریخی وداع ـ امامین انقلاب کی یادگار 'تہران کے بڑے مصلیٰ' سے عُشِ آل محمد 'قم مقدسہ' اور آستانۂ مقدسۂ سیدہ فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) اور مسجد جمکران تک، اور نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں آپ کے اجداد طاہرین علی و حسین و عباس (علیہم السلام) تک کے حرم ہائے مقدسہ تک عراق کے وفادار عوام کے کندھوں پر ـ اور مشہد مقدس تک، جہاں وہ ایک سپاہی کی طرح اپنے سپہ سالار انیس النفوس اور شمس الشموس کے قدموں میں، سرزمین طوس میں آرام فرما گئے؛ اور ایک عمر علمی، سیاسی اور میدانی جہاد، عالم اسلام کی بیداری کی کوشش، اور پیامبرانہ انداز سے ہدایت و تعلیم و تربیت، مسلمانوں کی فہم و ادراک کی تقویت، جدید اسلامی تہذیب کی طرف پیشقدمی، جدید جاہلیت کا نقاب اتارنے اور اس کا جدید دور کی غلامی اور مابعدجدید استعمار کا مقابلہ کرنے کے لئے حقائق کی تشریح اور بصیرت افزائی، اور ظلم و استبداد و استبکبار کے خلاف اٹھان کی پکار، اور ان سب سے زیادہ اہم 'امت کی امامت و رہبری کے بعد سرخ روئی اور سربلندی کے ساتھ دیدار معبود کی طرف لپکے تاکہ ان کا نام ـ اپنے جد امجد امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کے بعد ـ ایک شہید عالم، مرجع اور حاکم و رہبر کے طور پر تاریخ میں زندہ جاوید رہیں۔

مسلمانان عالم کے قائد عظیم الشان کی شہادت ایرانی عوام اور امت اسلامیہ کی بعثت کا آغاز تھی۔ چار مہینوں سے زیادہ عرصے تک، ایران کے تمام چوراہوں اور اسکوائرز پر، اور امام شہید سے وداع میں کروڑوں حریت پسند انسانوں کی موجودگی، اور دو ملکوں کے پانچ شہروں میں ان کے جسم مطہر کی تشییع کی تاریخی اور عدیم المثال افسانوی روداد ـ جس میں حالات سازگار ہونے کی صورت میں  پوری امت مسلمہ بھی شریک ہوتی ـ امت کی بعثت، رہبر شہید کے خَلَفِ صالح حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) کی قیادت و امامت میں استکبار اور امریکی امپریلزم اور ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف مسلمانوں اور احرار عالم کے جہاد و مجاہدت اور جہاد کے صراط مستقیم کا امتداد کے عزم و ارادے کا اظہار ہے جو مکمل فتح کے حصول اور جدید اسلامی تہذیب کی تاسیس، اور اور اسلامی مجد و عظمت کی بحالی اور  نجات دہندہ کے ظہور، دولت کریمہ کی تشکیل اور عدل و قسط کے قیام تک ـ جو اسلام اور اہل اسلام کی عزت کا سرمایہ ہے ـ جاری رہے گا۔

میں اپنی اور عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی اور تمام شیعیان اہل بیت(ص)، مسلمین دنیا بھر کے انصاف پسندوں کی جانب سے، اور امت کے تمام ہمدرد اور مخلص قائدین اور علماء اور دانشوروں کے ساتھ یک صدا ہوکر، ایرانی عوام اور امت اسلامیہ، حکومتوں اور سرکاری عہدیداروں، مذاہب و اقوام کے رہنماؤں اور روحانی پیشواؤں، دنیا کے مفکرین اور ممتاز شخصیات، مجاہدین اور امام شہید کے راستے کے تمام شیدائیوں کو ـ اس بے مثال موجودگی اور تشییع میں ان کی ناقابل تصور شرکت پر، جنہوں نے اس تاریخ ساز قائد کا حق ادا کرنے کے لئے سفر کی صعوبتیں جھیل لیں اور اس تاریخی تقریب میں شرکت کی دشواریوں کو برداشت کرتے ہوئے تشریف لائے ـ ، اپنے سپاس امتنان کے جذبات پیش کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ عالمی اور علاقائی سطح پر سنگین صورت حال کے دوران، اپنی بلند نظری اور رواداری کے ساتھ، اسلامی ملک ایران میں ممکنہ قلتوں سے، سے درگزر کریں۔

میں خدائے قادرِ متعال سے التجا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو اللہ کے ساتھ عہد کی وفا اور امام شہید کا مشن جاری رکھنے اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لئے ہم پیمانی اور مشترکہ جدوجہد کی ترفیق عطا فرمائے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

رضا رمضانی

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha