اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عالمی انعامِ شعرِ امامِ شہید کے سیکریٹری علیرضا قزوہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید، امام خمینیؒ کی طرح ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور ہمیشہ شاعری کو ایک قومی سرمایہ قرار دیتے ہوئے اس کی سرپرستی پر زور دیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب بنیادی طور پر ایک ثقافتی اور ادبی انقلاب ہے، اور اس کی قیادت کرنے والی تینوں شخصیات، یعنی امام خمینیؒ، رہبرِ شہید اور موجودہ رہبرِ معظم انقلاب، ادب و فن سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، جس کے باعث ایران میں شاعری کو ایک ممتاز مقام حاصل ہوا۔
علیرضا قزوہ نے رہبرِ شہید کے ساتھ شعراء کی سالانہ نشستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان محافل نے معاصر فارسی شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے، جبکہ دیگر ممالک کے شعراء بھی ان نشستوں سے مستفید ہوئے اور کئی غیر ملکی شعراء کو انہی ادبی مجالس کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔
انہوں نے افغان شاعر سید سکندر حسینی بامداد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سن 2015ء میں رہبرِ شہید کی ادبی نشست میں شرکت کی تھی اور بعد ازاں رہبرِ شہید کے مرثیے پر پہلی شعری کتاب تصنیف کی، جسے اہلِ ذوق نے خوب سراہا۔
قزوہ نے بھارت کے سابق ثقافتی مشیر بلرام شکلا کا بھی تذکرہ کیا، جو ہندی، سنسکرت اور فارسی زبانوں کے شاعر اور مصنف ہیں۔ ان کے بقول بلرام شکلا ایران اور بھارت کے تہذیبی تعلقات کی ایک نمایاں علامت ہیں اور وہ رہبرِ شہید کی ادبی نشستوں میں شرکت کو ہمیشہ اپنے لیے باعثِ افتخار قرار دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی انعامِ شعرِ امامِ شہید کے لیے ایران، افغانستان، عراق، لبنان، یمن، پاکستان، بھارت اور دیگر کئی ممالک سے بڑی تعداد میں شعری تخلیقات موصول ہوئی ہیں، جنہیں اس ادبی انعام کی تاریخ میں غیر معمولی استقبال قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موصولہ کلام پر مشتمل 10 سے زائد جلدیں شائع کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جنہیں ماہرین کی نگرانی میں ترتیب، تدوین اور اشاعت کے مراحل سے گزارا گیا ہے تاکہ معیاری اور مناسب قیمت پر شائع کیا جا سکے۔
علیرضا قزوہ نے کہا کہ اس منصوبے میں تقریباً 16 تخصصی ٹیموں نے حصہ لیا، جبکہ فارسی شاعری کی جانچ اور انتخاب کے لیے 12 تخصصی نشستیں منعقد کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مجموعۂ کلام کا عنوان "جہان مرد" رکھا گیا ہے، جو ان کے بقول رہبرِ شہید کی شخصیت اور ملتِ ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے درمیان ان کے مقام کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مجموعے کا مکمل ایڈیشن رہبرِ شہید کی برسی تک شائع ہو جائے گا اور آئندہ مزاحمتی شاعری اور اسلامی انقلابی ادب کے ایک اہم اور مستند ماخذ کی حیثیت اختیار کرے گا۔
آپ کا تبصرہ