اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ کے شیعہ رہنماؤں اور عوام نے ایران پر حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ اس موقع پر رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی یاد میں مختلف تعزیتی تقریبات بھی منعقد کی گئیں، جن میں مظلوم اور مستضعف اقوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے ضلع رامبن کے شیعہ رہنما سید ثمر کاظمی نے بھارتی خبر رساں ادارے Asian News International سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب رہبرِ شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تشییع اور نمازِ جنازہ کی تقریبات جاری تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کی مذمت کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ امریکہ نے اس کارروائی کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے بقول امریکہ ایک ناقابلِ اعتماد ملک ہے جس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔
سید ثمر کاظمی نے مزید کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور جو ظلم ڈھایا گیا وہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین سازش ہے، جس کی وہ شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ادھر لداخ کے مرکزی شہر لے میں بھی شیعہ برادری نے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی یاد میں ایک علامتی تعزیتی تقریب منعقد کی۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے لے کے صدر شیخ زین العابدین نے رہبرِ شہید کو ایک عظیم اور قابلِ احترام شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے تدفین کے مراسم میں شرکت ممکن نہ تھی، لیکن ان کے چاہنے والوں نے لے میں علامتی تقریب منعقد کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید پوری زندگی دنیا بھر کے مظلوموں اور مستضعفین کے حامی رہے۔ ان کی رحلت سے یہ راستہ ختم نہیں ہوگا بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہزاروں نئے رہرو میدان میں آئیں گے۔
آپ کا تبصرہ