8 جولائی 2026 - 18:33
مصری تجزیہ نگار: لاکھوں افراد کی شرکت سے ہونے والی تشییع، "ہمارے عہد کے حسینؑ" کی عملی تعبیر ثابت ہوئی

مصری مصنف اور تجزیہ نگار ایہاب شوقی نے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع میں لاکھوں افراد کی شرکت کو محض ایک الوداعی تقریب نہیں بلکہ مزاحمت سے تجدیدِ عہد، امریکہ اور صہیونی حکومت کی حکمت عملیوں کی ناکامی اور شہید سید حسن نصر اللہ کے بیان "ہمارے عہد کے حسینؑ" کی عملی تفسیر قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصری مصنف اور تجزیہ نگار ایہاب شوقی نے "لاکھوں افراد کے عوامی حماسے کا پیغام اور امامِ شہید کو 'ہمارے عہد کے حسینؑ' قرار دینے کی عملی تعبیر" کے عنوان سے اپنے مضمون میں آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای، رہبرِ شہید انقلاب اسلامی، کی تشییع کو عالمِ اسلام کی اہم ترین تاریخی تقریبات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب صرف ایک تشییع یا الوداع نہیں تھی بلکہ رہبرِ شہید کے راستے سے تجدیدِ بیعت، مزاحمت سے وفاداری کے اعادہ اور ایران کے اندر و باہر کے لیے اہم تزویراتی پیغامات کا مظہر تھی۔

انہوں نے لکھا کہ تشییع میں لاکھوں افراد کی شرکت نے عاشورا کی روح کو تازہ کر دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ایرانی قوم استکباری محاذ کے مقابلے میں آج بھی "ہیہات منا الذلہ" کے تاریخی نعرے پر ثابت قدم ہے۔

شہید نصر اللہ کے بیان "ہمارے عہد کے حسینؑ" کی عملی تعبیر

ایہاب شوقی نے کہا کہ یہ عظیم الشان تشییعی اجتماع شہید سید حسن نصر اللہ کے عاشورہ 2019ء کے اس تاریخی خطاب کی عملی تعبیر ہے، جس میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو "ہمارے عہد کے حسینؑ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا: "ما ترکناک یا ابن الحسین"۔

انہوں نے اس تقریب کے پانچ اہم تزویراتی پیغامات بھی بیان کیے۔

پہلا پیغام: مزاحمت ایک تزویراتی انتخاب ہے

شوقی کے مطابق دشمن نے رہبرِ انقلاب کی شہادت کے ذریعے مزاحمت کے عزم کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن لاکھوں افراد کی شرکت اور نئی قیادت سے عوام کی تجدیدِ بیعت نے ثابت کر دیا کہ مزاحمت کا راستہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔

دوسرا پیغام: مغربی پروپیگنڈے کی ناکامی

انہوں نے کہا کہ اس عوامی حماسے نے مغربی ذرائع ابلاغ کے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد ثابت کر دیا جن میں ایرانی عوام اور نظام کے درمیان فاصلے، حکومتی اختلافات اور انقلابِ اسلامی کی عوامی حمایت میں کمی کا تاثر دیا جاتا رہا۔

تیسرا پیغام: رہبرِ شہید اور انقلابِ اسلامی کے عالمی مقام کا استحکام

شوقی نے لکھا کہ مختلف ممالک سے سیاسی اور عوامی وفود کی شرکت نے ایران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کے بقول عراق میں تشییع کا انعقاد تہران اور بغداد کے گہرے تزویراتی تعلقات کی علامت اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے منصوبوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

چوتھا پیغام: "وحدتِ میدان" کی حکمت عملی کا استحکام

انہوں نے کہا کہ محورِ مزاحمت کے مختلف گروہوں کے نمائندوں کی مشترکہ موجودگی اور یکساں مؤقف سے ثابت ہوا کہ اس اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور مزاحمتی محاذ اپنی مشترکہ حکمت عملی پر بدستور قائم ہے۔

پانچواں پیغام: دفاعی بازدارندگی کا استحکام اور دشمن کی مایوسی

مصری تجزیہ نگار کے مطابق لاکھوں عوام کے ساتھ ملک کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی نے دشمنوں کو واضح پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مکمل اتحاد اور استحکام کا حامل ہے، لہٰذا اندرونی اختلافات یا انقلاب کے راستے میں تبدیلی کی امید رکھنا محض غلط فہمی ہے۔

شوقی نے اپنے مضمون کے اختتام پر رہبرِ شہید کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے مزاحمت کی حکمت عملی، فلسطین کی مسلسل حمایت، اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت میں اضافے، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ فکری اور عملی میراث شہادت کے بعد بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای کی تشییع صرف ایک رہنما کی رخصتی نہیں تھی بلکہ عاشورا کے راستے کی تجدید، مزاحمت سے نئے عہد اور اس حقیقت کے اعادہ کا اعلان تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور محورِ مزاحمت "ہیہات منا الذلہ" کے تاریخی شعار کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha