16 جون 2010 - 19:30

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سنی رہبر کونسل کا ہنگامی اجلاس ، رابطہ سیکرٹری صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی کی صدارت میں ہوا جس میں بعض کالعدم تنظیموں کی طرف سے اہلسنت و جماعت کی مساجد پر مبینہ قبضے کی مہم کی مذمت کی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ انتظامیہ اور پولیس اہلسنت کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے اسلئے سنی رہبر کونسل نے بامر مجبوری احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، یہ احتجاج پر امن ہوگا لیکن شہر کی کسی بھی اہم شاہراہ پر بدھ کو دھرنا دیا جائے گا ۔اطلاعات کے مطابق اجلاس میں حاجی محمد حنیف طیب، محمد شاہد غوری، طارق محبوب ، قاضی احمد نورانی، محمد اشرف گورمانی، ابرار احمد رحمانی، خلیل الرحمن چشتی، صاحبزادہ نذیر جان نعیمی، محمد عبدالمالک نقشبندی، محمد آفتاب رضا نوری و دیگر علمائے کرام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گرد آپریشن زدہ علاقے سے کراچی کے مختلف علاقوں میں پھیل کر مساجد پر قبضے کر رہے ہیں جسکی تفصیل حکومت کے پاس موجود ہے ، یہ عناصر ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں مدارس اہلسنت، مشائخ علماء اہلسنت کی تنظیموں سے ہنگامی بنیاد پر رابطے کیلئے رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ۔واضح رہی کہ کراچی کی متعدد مساجد پر کالعدم دہشت گرد تتنظیم سپاہ صحابہ اور اور اس سے وابستہ گروہوں نے قبض کرکے مساجد کو دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کردیا ہے اور بدھ کے روز کے دھرنے کا ایک مقصد انتظامیہ کی توجہ اس امر پر مبذول کرانا ہے ۔
...........
/110