بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔
حصۂ نہم (آخری قسط):
کشنر اور وٹکاف نے صدر کو مجموعی تصویر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر وہ کسی چیز پر مذاکرات کر سکتے ہیں، لیکن اس میں مہینوں لگیں گے۔ اگر ٹرمپ پوچھ رہا تھا کہ "کیا تم میری آنکھوں میں دیکھ کر کہہ سکتے ہو کہ میں یہ مسئلہ حل کر سکتا ہوں، کشنر نے اسے بتایا کہ وہاں پہنچنے میں بہت وقت لگے گا، کیونکہ ایرانی کھیل رہے ہیں۔
جمعرات، 26 فروری، شام تقریباً 5 بجے، سچویشن روم کا آخری اجلاس شروع ہؤا۔ اس وقت، کمرے میں موجود تمام افراد کا موقف واضح تھا۔ پچھلے اجلاسوں میں ہر چیز پر بحث ہو چکی تھی؛ ہر کوئی دوسرے کے موقف سے آگاہ تھا۔ بحث تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔
سی آئی اے ڈائریکٹر نے صدر کو بتایا کہ رجیم چینج میں کامیابی اس اصطلاح کی تعریف کی کیفیت پر انحصار کرکے، ممکن ہے۔ مثلاً اگر رجیم چینج سے ہمارا مطلب صرف رہبر انقلاب کا قتل ہو، تو ممکن ہے کہ ہم یہ کر سکیں۔"
جب وہائٹ ہاؤس کے مشیر ڈیوڈ وارنگٹن (David Warrington) کو بلایا گیا، تو اس نے کہا کہ 'یہ ایک قانونی اور مجاز آپشن' ہے، اس لحاظ سے کہ، یہ منصوبہ امریکی عہدیداروں کی طرف سے کیسے مرتب اور صدر کو پیش کیا گیا ہے۔
اسٹیون چیونگ (Steven Cheung) نے جنگ کی وجہ سے تعلقات عامہ میں پھیلنے والے غبار کی وضاحت کی اور کہا: ٹرمپ نے صدارت کے عہدے کے لئے مزید جنگوں کی مخالفت کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی تھی۔ عوام نے اس کو بیرونی تنازع کے لئے ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہ منصوبے اس کے علاوہ ہر اس چیز سے متصادم تھے جو حکومت نے جون میں ایران پر بمباری کے بعد کہی تھی۔ وہ آٹھ ماہ تک ایران کی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی پر اصرار کو کیسے جائز ٹھہرائیں گے؟
چونگ نے 'ہاں' یا 'نہیں' نہیں کیا، لیکن کہا کہ ٹرمپ جو بھی فیصلہ کرے گا، صحیح ہوگا۔
روبیو نے زیادہ شفافیت کے ساتھ صدر کو بتایا: اگر ہمارا ہدف رجیم چینج یا بغاوت ہے، تو ہمیں یہ نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن اگر ہدف ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا ہے، تو یہ ایک ایسا ہدف ہے جسے ہم حاصل کر سکتے ہیں!
ہر کوئی صدر کی [انتقامی] جبلتوں کے آگے جھک گیا۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ اس نے بےپروائی پر مبنی فیصلے کئے ہیں، ناقابل تصور خطرات مول لئے ہیں اور کسی نہ کسی طرح کامیاب ہؤا ہے۔ اب کوئی اسے روک نہیں سکتا تھا۔
صدر نے حاضرین سے کہا:
"میرے خیال میں ہمیں یہ کام کرنا چاہئے۔"
اس نے کہا کہ ان (امریکیوں اور اسرائیلیوں) کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل نہیں کر سکتا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران اسرائیل یا پورے خطے کی طرف میزائل نہیں داغ سکتا!
کتاب کے مطابق، چند گھنٹے بعد، 27 فروری کو، ٹرمپ نے حتمی حکم جاری کیا اور امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن 28 فروری کے پہلے گھنٹوں میں شروع ہؤا۔
ہیبرمین اور سوان، کتاب "نظام کی تبدیلی" میں یہ خاکہ کھینچتے ہیں کہ ٹرمپ نے، انٹیلیجنس وارننگز، فوجی تردد اور سیاسی تحفظات کے برعکس، آخری لمحے میں، سب سے زیادہ ایران کی کمزوری کے بارے میں اپنے ذاتی تاثر، ایک تاریخی فتح کی کشش اور طاقت کے مظاہرے کے لئے اپنی جبلتوں پر انحصار کیا۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ