28 جون 2026 - 21:37
میناب اور لامِرد میں جنگی جرائم کے مرتکب مجرموں کا گریبان ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں ضرور پکڑا جانا چاہیے

رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ عدالت اور آیت الله شہید بہشتی اور ان کے رفقاء کی برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ عدالت اور آیت الله شہید بہشتی اور ان کے رفقاء کی برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی کے پیغام کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ایام مصیبت آل الله، حضرت ثار الله صلوات الله و سلامه علیه و علیھم اجمعین اور ان کے باوفا اصحاب کی شہادت پر ایرانی پوری قوم اور امت مسلمہ کی خدمت میں تسلیت پیش کرتا ہوں۔

تحریک اور قیامِ حسینؑی، حق کے قیام، امت کی اصلاح، ظلم و ستم کے مقابلے اور حق و باطل نیز عدل و ظلم کے معرکے میں تاریخ کی ایک بلند ترین چوٹی ہے اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں کے لیے نہایت قیمتی اور ناقابلِ فراموش اسباق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

سید الشہداء کے خون کو خونِ خدا کہا جاتا ہے، جو کائنات کی رگوں میں جاری ہو کر زندگی بخش معرکے تخلیق کرتا ہے۔

تحریک اور انقلابِ اسلامی ایران چونکہ اسی نورانی سرچشمے کا مرہونِ منّت ایک شعبہ ہے، اس لیے اس کو ہمیشہ قیامِ حسینی کے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ ہر سال 28 جون اُس عظیم انقلابی شخصیت کی یاد تازہ کرتی ہے، جو عدلیہ کے سربراہ کے طور پر اسی مقصد کے لیے شب و روز جدوجہد کرتے رہے، یہاں تک کہ اپنے مخلص انقلابی ساتھیوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کی مظلومانہ شہادت اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے بہتر (72) رفقاء، اس نظام کے حسینی ہونے اور اس کے معماروں کے حسینی کردار کی ایک روشن دلیل بن گئے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں عدلیہ کا مقام عوام کے حقوق کی حفاظت، اجتماعی حقوق کی بحالی، جائز آزادیوں کا تحفظ، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، عدل کا نفاذ، حدودِ الٰہی کے قیام اور قانون کے نفاذ کی نگرانی ہے۔ اس راستے میں کامیابی کا ثمر، رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کو اس اہم ستونِ نظام پر مزید مستحکم کرنا ہے۔

تمام اداروں، قوتوں اور ذمہ دار حکومتی شعبوں سے بجا توقع یہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو ہمیشہ نظامِ مقدس جمہوری اسلامی کے مطلوبہ معیار اور ملت کے عظیم مقام کے مطابق ڈھالیں اور اس کی ازسرِنو اصلاح کریں۔ اس میدان میں عدلیہ کو ایک منفرد، بلکہ بے مثال مقام حاصل ہے کہ وہ نظام کے دیگر شعبوں کی اصلاح اور حرکت کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ خود اپنے اندر بھی اصلاح اور تعمیری عمل کو مسلسل جاری رکھے۔

آج معاشرے کی عمومی توقع یہ ہے کہ وہ عدلیہ کی کارکردگی میں اس امر پر عملی زور دیکھیں؛ اس طرح کہ قضائی تحول محض دستاویزات، منصوبوں اور نقشہ ہائے راہ میں درج الفاظ نہ رہے، بلکہ حقیقت کا روپ دھار لے اور اس کے آثار عدالتی دفاتر، عدالتوں کے اجلاسوں، عوامی ماحول اور سماجی فضا میں نمایاں ہوں۔ عوام اپنی روزمرہ زندگی میں اس کے مثبت اثرات اس صورت میں محسوس کریں کہ بدعنوانیوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی ہو، حقوق کی پامالی کم ہو، مقدمات کی تیزی تحقیقات ہوں، ججوں کے فیصلوں کی صحت اور مضبوطی میں اضافہ ہو اور انصاف تک رسائی مزید آسان بنے۔

عدلیہ کی ایسی تصویر ہونی چاہیے کہ عدل کا نفاذ اس مقام تک پہنچ جائے کہ ہر مظلوم اسے اپنا محفوظ سہارا سمجھے اور خصوصاً وہ لوگ جو کسی نہ کسی طاقت یا اثر و رسوخ کے حامل ہیں، دوسروں کے حقوق پر دست درازی کی جرأت نہ کریں۔ سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر مداخلت کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو اور کسی خاص جاننے والے کو کسی قسم کی برتری حاصل نہ رہے۔

یقیناً ملت کے حقوق کی بازیابی صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ ان کے اجتماعی حقوق بھی، جیسے معاشی تحفظ، مواقع تک منصفانہ رسائی، قدرتی وسائل سے عادلانہ استفادہ، صحت مند ماحول، جائز آزادیوں اور مؤثر حکمرانی کا حق، سب عدل کے فروغ کے اہم شعبے ہیں۔

اس حساس دور میں ملتِ ایران سے متعلق سب سے اہم قانونی و عدالتی مسائل میں سے ایک، سنہ 2025 اور 2026 میں بین الاقوامی مجرموں، عالمی استکباری طاقتوں اور جارح عناصر کے جرائم کے نتیجے میں ضائع ہونے والے حقوق کی تحقیقات اور ان کی بازیابی ہے۔

دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مظلوم شہداء کے خون سے لے کر ہمارے وطن عزیز پر پڑنے والے جسمانی، روحانی، مادی اور معنوی نقصانات تک؛ میناب اور لامرد میں بچوں کے قتل اور بے مثال جنگی جرائم سے لے کر ہسپتالوں اور عوامی خدمات کے مراکز پر حملوں تک؛ چند روزہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں کے قتل تک اور ان سب سے بڑھ کر اس بے مثال شخصیت، اس نایاب گوہر، اس دور کے منفرد مجاہد رہبرِ عظیم الشان اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی شہادت، ان میں سے ہر ایک، سینکڑوں، بلکہ ہزاروں اہم قانونی مقدمات کی بنیاد بنتا ہے، جنہیں ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں پوری سنجیدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

اس موضوع میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اوّلاً امریکی اور صہیونی دشمن قیادت کے بعض سربراہان کی جانب سے ان جرائم کا کھلے عام اعتراف، بلکہ ڈھٹائی سے ان پر فخر کرنا، خود جرم کے اقرار کے مترادف ہے، جو ملت کے ضائع شدہ حقوق کے حصول کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ثانیاً، گزشتہ سال جون میں عدلیہ کے ذمہ داران سے اپنی آخری ملاقات میں شہید رہبرِ انقلاب کی جانب سے دوسری مسلط کردہ جنگ کے جرائم کی تحقیقات کے بارے میں جو ہدایات دی گئی تھیں، ان کا تقاضا یہ ہے کہ یہی عمل تیسری مسلط کردہ جنگ تک بھی وسعت پائے اور مسلسل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک فیصلہ صادر نہ ہو اور اس کے نفاذ کو صالح عناصر کے سپرد نہ کر دیا جائے۔ یہ اقدام آئندہ ایسے جرائم کے تکرار کو روکنے میں بھی مؤثر ثابت ہوگا۔

یقیناً ہمہ جہت عدالتی تحول اور مذکورہ اہداف کے جلد حصول کے لیے مختلف مقدمات اور ضروری اقدامات درکار ہیں، جنہیں سالانہ ملاقاتوں میں اور عظیم الشان شہید رہبر قدس الله نفسه الزکیه کی مفصل نصیحتوں اور تاکیدات میں بارہا بیان کیا جا چکا ہے؛ ان پر سنجیدگی سے توجہ اور ان کے عملی نفاذ کی کوشش، جو عدلیہ کے محترم ذمہ داران کی کامیابی کی کنجی ہے، میری مؤکد خواہش اور تاکید ہے۔

عدل کے قیام اور ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد کا راستہ دشوار ہے جو کہ اخلاص و توکل، اعلیٰ درجے کے تقویٰ، مضبوط ارادے، مسلسل جدوجہد، ہمہ جہت ہمت، شجاعت و قاطعیت، پیش قدمی، جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال اور ہوشمندانہ امور کے ذریعے ہموار ہوگا۔

ان تمام امور کی تکمیل، ان شاء اللہ، حضرت عدلِ منتظر، ہمارے آقا (امام مہدی علیہ السلام) عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں ممکن ہوگی۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha