27 جون 2026 - 18:47
عرب تجزیہ کار جاد طعمه: امریکہ اور ایران مذاکرات جوہری معاملے سے بڑھ کر عالمی نظام کی کشمکش ہیں

جاد طعمه کے مطابق یہ مذاکرات دراصل اثر و رسوخ کی کشمکش ہیں، جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے کردار اور اثر کو کسی حد تک تسلیم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ خطے میں طاقت کی تقسیم ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عرب تجزیہ کار اور مصنف جاد طعمه نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل تعلق خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی نظام کے قواعد سے ہے۔

اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں انہوں نے لکھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی اختلاف صرف یورینیم کی افزودگی یا تکنیکی امور نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ خطے میں فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور عالمی سطح پر کس کو قبول کیا جائے گا۔

جاد طعمه کے مطابق یہ مذاکرات دراصل اثر و رسوخ کی کشمکش ہیں، جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے کردار اور اثر کو کسی حد تک تسلیم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ خطے میں طاقت کی تقسیم ہے۔

انہوں نے عالمی نظام میں دہرا معیار برتنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سخت توجہ دی جاتی ہے جبکہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں اور بعض فوجی کارروائیوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، جس سے خطے کے عوام میں عالمی نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق اصل مسئلہ سیکیورٹی نہیں بلکہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کو طاقتور ممالک اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں، جس سے عالمی نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔

جاد طعمه نے اپنی تحریر میں ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ کے باوجود ایران نے اپنی پالیسیوں کو مکمل طور پر امریکی مطالبات کے مطابق تبدیل نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ کمزور ہونا لازماً مکمل طور پر جھک جانا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عالمی نظام قانون کی بنیاد پر چلتا رہے گا یا طاقت ہی فیصلہ کن اصول بن جائے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha