اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معاریو کے کالم نگار ایلی لیئون نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بحرین میں واقع امریکی بحری اڈہ، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والے اہم مراکز میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں کمانڈ ہیڈکوارٹر، متعدد آپریشنل مراکز اور سیٹلائٹ مواصلاتی اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا، جبکہ صرف تعمیراتی بحالی کی لاگت تقریباً 400 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کویت کے علی السالم، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ اور سعودی عرب کے امیر سلطان فوجی اڈوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود بحرین کے اڈے پر کوئی امریکی اہلکار ہلاک نہیں ہوا اور فوجی کارروائیاں بھی متاثر نہیں ہوئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کے مطابق، ایران نے آٹھ ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون فائر کیے، تاہم ان میں سے صرف دو حملوں سے امریکی اہلکاروں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارتِ دفاع نے مالی نقصانات کی سرکاری تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے، البتہ بعض تحقیقی اداروں نے جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 40 ارب ڈالر اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ہونے والے براہِ راست نقصان کا تخمینہ 2.2 سے 5.1 ارب ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔
معاریو نے مزید دعویٰ کیا کہ ان پیش رفت کے بعد واشنگٹن خلیج فارس کے بعض ممالک میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے اور کمانڈ مراکز و دیگر اہم تنصیبات کو نسبتاً محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض فوجی اور کمانڈ صلاحیتوں کو مقبوضہ فلسطین منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم اب تک کسی امریکی عہدیدار نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔
آپ کا تبصرہ