27 جون 2026 - 17:42
لبنانی مصنفہ کا دعویٰ: لبنانی فوج بعض ذرائع ابلاغ کی تنقید کا نشانہ بن گئی ہے

بیروت: لبنانی مصنفہ لیلی عماشہ نے ایک تنقیدی مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے بعض ذرائع ابلاغ صرف اسی وقت لبنانی فوج کی حمایت کرتے ہیں جب اس کی پالیسی امریکی مؤقف سے ہم آہنگ ہو، جبکہ مختلف مؤقف اختیار کرنے کی صورت میں وہ اسی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیلی عماشہ نے اپنے مضمون میں لکھا کہ لبنانی اخبارات النهار اور نداء الوطن کے علاوہ ٹی وی چینل MTV نے مختلف مواقع پر، خصوصاً سکیورٹی فیصلوں کے نفاذ اور واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران، لبنانی فوج کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے، ان کے بقول، امریکہ اور اسرائیلی رژیم کی خواہشات کے مطابق رویہ اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ذرائع ابلاغ کی توقع تھی کہ لبنانی فوج بعض داخلی معاملات میں زیادہ سخت اور تصادم پر مبنی پالیسی اپنائے، لیکن فوجی قیادت کی جانب سے بتدریج اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے جانے پر انہوں نے منفی ردعمل ظاہر کیا۔

عماشہ نے واشنگٹن مذاکرات کے دوران اس خبر کا بھی حوالہ دیا کہ لبنانی فوجی وفد نے اسرائیلی وفد کے ساتھ مشترکہ یادگاری تصویر بنوانے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق، بعض لبنانی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کی وسیع کوریج اس اقدام پر عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ ان میڈیا اداروں نے اسے مذاکرات میں کشیدگی کی علامت قرار دیا۔

لبنانی مصنفہ نے اپنے مضمون کے اختتام پر زور دیا کہ لبنانی فوج کو اپنی قومی شناخت اور آزادانہ فیصلوں کی بنیاد پر کام کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، اس قومی ادارے کی حقیقی حمایت اسی صورت ممکن ہے جب اس کی فیصلہ سازی کی آزادی کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے بعض ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیلی رژیم کی پالیسیوں سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کے نزدیک لبنان کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha