26 جون 2026 - 22:02
حصۂ سوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ + اہم نکات

سی این این نیٹ ورک نے ایران پر مسلط کردہ امریکی جنگ کے اثرات پر ایک مفصل رپورٹ میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی امریکہ پر 'بڑھتی ہوئی بد اعتمادی' پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس بداعتمادی نے خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کی علاقائی عرب ریاستوں کو ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت و مصالحت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی این این کے مطابق، 'اس جنگ نے خلیجی رہنماؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچیں۔'

حصۂ سوئم:

سی این این کے ساتھ بات چیت کرنے والے اس گمنام سفارت کار کے خیال میں،

- کچھ خلیجی ریاستیں اس وقت اپنی فوجی خریداریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر ہتھیاروں کے متبادل فراہم کنندہ کے طور پر ترکی کا رخ کر رہے ہیں۔

- اس جنگ نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے رہنماؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچیں۔

- مذکورہ بالا سفارت کار نے بتایا: 'اگرچہ فی الحال [اس کے بقول] کوئی بھی علاقائی طاقت خلیج فارس کی سلامتی کے ضامن کے طور پر امریکہ کی جگہ لینے کی اہلیت نہیں رکھتی، لیکن خطے کے عرب حکام تیزی سے ایسے مستقبل پر غور کر رہے ہیں جس میں واشنگٹن علاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں بہت کم کردار ادا کرتا ہوگا؛ چنانچہ، ممکنہ فریم ورک میں 'ایران کے ساتھ علاقائی عدم جارحیت کا معاہدہ' شامل ہو سکتا ہے۔

سی این این نے لکھا:

- امریکہ کی سیکیورٹی ضمانتوں پر اعتماد میں کمی کے ساتھ، خلیجی ریاستوں کے پاس تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون سے ہٹ کر تہران پر اثر انداز ہونے کے لئے بہت کم ذرائع ہیں۔

- [مغربی] تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ صرف سفارت کاری، خلیجی ریاستوں کی مطلوبہ سیکیورٹی ضمانتیں فراہم نہیں کر سکتی۔

- الحسن نے کہا: 'بہت بعید ہے کہ عدم جارحیت کا معاہدہ ایران کے اسٹراٹیجک حسابات کو تبدیل کر دے۔ اس کے لئے، خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو سب سے پہلے قابل اعتماد تسدید (یا ڈیٹرنس)، جدید اور مربوط دفاع اور مضبوط مزاحمتی اقدامات کے ذریعے ایران کے ساتھ اسٹراٹیجک عدم توازن کا ازالہ کرنا ہوگا۔ (1)

سی این این نے حالیہ ہفتوں میں خلیجی ممالک کے معتبر میڈیا کی ایران کے بارے میں رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:

- اگر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں، تو کسی حد تک اس لئے ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔'

- یوریشیا گروپ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے منیجنگ ڈائریکٹر فراس مقصد (Firas Maksad) نے کہا: "(یہ خیال کہ) امریکہ ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اب خلیجی ممالک میں بہت زیادہ غیر معتبر ہے۔"

مقصد نے مزید کہا: "خلیج فارس کی ریاستوں کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا کیونکہ انہیں امریکہ پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔ طویل مدت میں، یہ صرف کشیدگی میں کمی نہیں، بلکہ یہ تسدید (Deterrence) بھی ہے۔ 'انہیں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا'۔" (2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ واضح رہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے گذشتہ دہائیوں میں اپنی زیادہ تر آمدنی امریکی ـ اور اسرائیلی ـ ہتھیار خریدنے پر خرج کی ہے، ہتھیاروں کے انبار لگائے ہیں، اور امریکیوں کو اڈے دیئے ہیں اور اپنے بزعم "قابل اعتماد ڈیٹرنس کا کامیاب انتظام" کیا ہے، لیکن جنگ کے دوران یہ سب کام نہيں آیا، اور ہتھیار امریکہ کے کام آئے، اور ان ہتھیاروں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا، بحرین، سعودی عرب اور امارات نے ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست کردار بھی ادا کیا۔ لیکن وہ ایران کے مقابلے میں زدپذیر نظر آئے جس کی وجہ ہتھیاروں کی کمی اور بیرونی حمایت کی کمی نہیں بلکہ ان ریاستوں کی اپنی ساخت، کم آبادی، اور زیادہ تر ریاستوں کا انتہائی کم رقبہ، افرادی قوت کی کمزوری اور تنخواہ لینے کے لئے بیرون ملک سے آنے والی افراد قوتوں پر انحصار، نیز ایک بڑے علاقائی ملک کے خلاف لڑنے کی عدم صلاحیت وہ عوامل ہیں جو ان ممالک کے ساتھ رہیں گے، اور کامیاب ڈیٹرنس صرف ایران کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کم اور ایران کے خلاف دشمن کی صف میں کھڑا نہ ہونے کا قابل بھروسہ عہد، کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔ الحسن جیسے مغرب نواز تجزیہ کار ـ جو حقائق کو کم اور امریکی خوشنودی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ـ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ خلیج فارس کی عرب ریاستیں جنگوں اور تنازعات کی صورت میں ـ ہر حال میں ـ زدپذیر ہیں، اور انہیں اصولی طور پر معمول کی چھوٹی اور صاحب ثروت ریاستوں کی طرح، کسی بھی فوجی چپقلش سے دور رہ کر اپنی سلامتی کا تحفظ کرنا چاہئے۔ یہ واحد کام ہے جو ایسی ریاستیں کر سکتی ہیں اور اسی میں ان کی عافیت ہے۔

2۔ فراس مقصد کا جواب دینے کے لئے بھی مندرجہ بالا وضاحت دیکھئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مهدی عباس زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha