آئینی اصلاحات کمیٹی نے مجوزہ اٹھارویں ترمیم کے مسودے کو گزشتہ روز حتمی شکل دی اور کمیٹی میں شامل تمام چھوٹی بڑی جماعتوں نے مسودے پر دستخط کیے۔مسودہ میں تینوں سروسز چیف کی تقرری اور اسمبلی توڑنے کا اختیار وزیر اعظم کو دینے، جبکہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی منظوری کا حتمی صدارتی اختیار پارلیمانی کمیٹی کے سپردکرنے سفارش کی گئی ہے۔مجوزہ سفارشات کے تحت صدر کو فوجداری مقدمات میں حاصل استثنیٰ برقرار رہے گا اور مجرموں کی سزائیں ختم کرنے کا اختیار بھی صدرکے پاس ہی رہے گا۔مجوزہ سفارشات کے مطابق گورنر کو حاصل کئی اہم اختیارات وزیر اعلیٰ کومل جائیں گے اور گورنر وزیر اعلیٰ کے مشورے پر عمل کا پابند ہو گا۔کسی صوبے کے گورنرکی تقرری کیلئے لازم ہوگا کہ وہ اسی صوبے سے تعلق رکھتا ہو۔کمیٹی نے فوجداری مقدمات، اعلیٰ اور فنی تعلیم، بین الاقوامی معاہدوں، ثالثی اور نارکوٹکس کو کنکرنٹ لسٹ سے نکال کر فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے پارٹ ٹو میں شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔آئینی کمیٹی نے دو بار سے زائد وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ بننے پرعائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔صوبہ سرحدکا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اورعوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخواہ کے نام کو آئینی ترمیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
16 جون 2010 - 19:30
News ID: 182941
پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کا مسودہ اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو پیش کیا کردیا گیا۔