اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کو جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی اور قبضہ برقرار رکھنا چاہیے۔
عبری ذرائع ابلاغ کے مطابق بن گویر نے کہا کہ جنوبی لبنان میں گھروں کی مسماری کا عمل روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی وہاں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں میں واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: "ہمیں اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ہوگا، چاہے ٹرمپ اس کی مخالفت ہی کیوں نہ کریں۔"
جنوبی لبنان میں جارحیت کا سلسلہ جاری
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے کے اعلان کے باوجود صہیونی حکومت جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر اصرار کر رہی ہے، جبکہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ایران اور لبنان کے معاملات کو الگ کرنے کی کوشش ناکام
صہیونی ٹی وی چینل چینل 24 اسرائیل نے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ارکان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران اور لبنان کے معاملات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔
اسی طرح صہیونی نشریاتی ادارے کان نیوز نے دعویٰ کیا کہ بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کی تیز رفتار سفارتی کوششوں کو روکنے میں ناکام رہے۔
معاہدے کو متاثر کرنے کی کوششوں کا دعویٰ
بعض ذرائع ابلاغ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صہیونی حکومت لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھ کر ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں صورتحال کو بدستور پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ