اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیلی حلقوں میں جنگ کے نتائج پر شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی پالیسیوں نے اسرائیل کو ایک بار پھر ایسی صورتحال میں پہنچا دیا ہے جہاں اس کی کارروائی کی آزادی محدود اور بازدارندگی کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو مناسب اہمیت نہ دے کر اسرائیل کو ایک مشکل اسٹریٹجک حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا۔
یدیعوت آحارونوت نے ایک باخبر اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ موجودہ نتائج توقعات سے کہیں زیادہ مایوس کن ہیں۔ ذریعے کے مطابق:
"مایوسی کا حجم تصور سے بھی زیادہ ہے۔ اگر ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا کہ انجام کار صورتحال یہی ہوگی تو اس بات پر سنجیدہ شکوک موجود تھے کہ آیا ہم جنگ کا آغاز ہی کرتے یا نہیں۔"
اخبار کے مطابق یہ تبصرہ اسرائیلی سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور جنگی حکمتِ عملی پر جاری بحث کی عکاسی کرتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی اور عسکری صورتحال نے مختلف فریقوں کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ