بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دھندلاہٹ کا شکار ہونے والی بین الاقوامی ترتیب میں اس تبدیلی کا پہلا اثر امریکہ سپرپاور کے تین ستونوں (اور تین خصوصیات) کا خاتمہ ہے:
حصۂ دوئم:
2- سمندروں کی نمبرداری کا خاتمہ
وائٹ ہاؤس پہلے پابندیوں کے ذریعے ممالک کو تسلیم یا شکست و ریخت کے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دیتا تھا لیکن اب اسلامی جمہوریہ کے خلاف پابندیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اسے اپنے جنگی جہازوں کی فوج کشی اور بحیرہ عمان کے دہانے پر جہاز بہ جہاز معائنہ کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
یہ اقدام مشترکہ علاقوں میں امریکہ کی کمانڈ کے خاتمے کو عیاں کرتا ہے۔ امریکہ اس سے قبل اپنی بحری اور فضائی طاقت کے بل بوتے پر آزاد پانیوں کا خود ساختہ کمانڈر تھا جس کا دبدبہ زوال پذیر ہے۔

3- غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) کا اقتصادی پہلو
امریکہ ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے ـ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ـ مہنگے (امریکی) ہتھیاروں کی (ایران کے) سستے ہتھیاروں کے ساتھ زور آزمائی کے تاریک راستے میں داخل ہو گیا ہے، اور اس غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) کا حیرت انگیز فاتح ہے۔ امریکہ یمن کے جنگجوؤں کے سستے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لئے کروڑوں ڈالر جلانے پر مجبور ہے۔ امریکہ کو 30 لاکھ ڈالر کا قیمتی پیٹریاٹ میزائل چند ہزار ڈالر کے شاہد ڈرون کا مقابلہ کرنے لئے، استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ بنیادی عدم توازن دنیا کی طاقتور ترین فوج کو جلدی یا بدیر، آہستہ آہستہ فرسودہ یا خانہ نشینی پر مجبور کر دے گا۔
4- میدان میں نئے کھلاڑیوں کی آمد
نئے واقعات ایک طرف سمندروں میں امریکہ کے حلقۂ اثر کو محدود کر رہے ہیں اور دوسری طرف نئے کھلاڑی اس طاقت کے خلا کو پر کر رہے ہیں۔ نئے کھلاڑی جنگی بیڑے کے بغیر آسانی سے امریکہ کے افسانوی طیارہ بردار جہازوں کو سینکڑوں کلومیٹر پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یمن کی فوج نے سستے ڈرونز اور میزائلوں سے آبنائے باب المندب پر آمد و رفت کی نگرانی کرنے میں کامیاب رہی ہے جو کہ خود کو بڑا دعویدار کہنے والے پینٹاگون کے لئے ایک اسٹراٹیجک رسوائی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اپنی مقامی اور غیر متناسب صلاحیت اور ارادے سے استفادہ کرتے ہوئے طاقت کا نیا فارمولا لکھ اور مستحکم کر رہا ہے جس کا ثمرہ ایران کے انتظامات کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گذرنا ہے۔ آبنائے باب المندب سے جہازوں کی آمد و رفت بھی ضرورت پڑنے پر یمن کی مسلح افواج کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یمن اور ایران ایک محور میں ہیں، لہٰذا آبناؤں کا انتظام امریکہ کے مشق کے میدان کو دن بہ دن تنگ تر کر رہا ہے۔
بإذنِ اللہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ