11 جون 2026 - 17:38
اردوغان کا سخت ترین حملہ؛ اسرائیل کی پالیسیوں کو ہٹلر سے تشبیہ

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور بنیامین نیتن یاہو کی قیادت کو ہٹلر کے دور سے تشبیہ دی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اردوغان نے کہا کہ غزہ سے لبنان اور شام تک خطے میں جاری بحرانوں اور جنگوں کے باعث عوام کی تکالیف بڑھ رہی ہیں، جبکہ اسرائیل کے اقدامات پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنے قیام کے وقت سے ہی خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے خطرہ رہا ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف منظم کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے بقول، غزہ میں ہزاروں بے گناہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ محاصرہ اور انسانی بحران بھی بدستور جاری ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل صرف غزہ ہی نہیں بلکہ لبنان اور شام میں بھی فوجی کارروائیوں میں ملوث ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو "بحران کا مرکز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست خطے میں مسلسل تناؤ پیدا کر رہی ہے۔

اردوغان نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو ہٹلر کے دور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ترک صدر نے مشرقی بحیرہ روم اور قبرص کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اپنے قومی مفادات اور ترک قبرصی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ شام اور لبنان کو برادر ممالک سمجھتا ہے اور ان کی سلامتی کو اپنی سلامتی سے الگ نہیں سمجھتا۔ ان کے بقول، ترکیہ خطے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف خاموش نہیں رہے گا۔

اردوغان نے اپنے خطاب کے اختتام پر غزہ اور لبنان کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ کی طرح آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha