اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کولمبیا کے صدر نے اقوام متحدہ کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو "یہود دشمنی" قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات دراصل ناقدین کی آواز دبانے اور حقائق کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے خطے کے عوام کے مشترکہ تاریخی، تہذیبی اور لسانی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑنا ایک جانبدارانہ طرزِ عمل ہے جس کا مقصد مخالف آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
کولمبیا کے صدر نے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر جس بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، اس کی اصل وجہ سیاسی دباؤ نہیں بلکہ غزہ میں جاری نسل کشی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس سنگین جرم کے ذمہ دار افراد کا بین الاقوامی عدالتوں میں محاسبہ کیا جائے۔
پیٹرو نے مزید کہا کہ بعض مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت نے قبضے کے تسلسل اور دو ریاستی حل کو کمزور کیا ہے۔ ان کے بقول، خطے میں پائیدار امن کے لیے مکمل خودمختاری رکھنے والی دو آزاد ریاستوں کا قیام ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقی اور دیرپا امن کسی ایک ثقافت یا نظریے کو دوسروں پر مسلط کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کی بنیاد ثقافتی تنوع کے احترام، اختلافات کو قبول کرنے، تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور مذہبی آزادی کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
کولمبیا کے صدر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے یکساں نفاذ کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
آپ کا تبصرہ