اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ نتائج امریکی، برطانوی، بعثی اور سعودی حلقوں کے نزدیک مطلوب ہیں اور انھوں نے ان نتائج کا خیرمقدم کیا ہے مگر عراق کی اکثریتی آبادی اور سیاسی جماعتوں کے نزدیک یہ نتائج دھاندلی کے بدولت سامنے آئے ہیں۔
مکمل نتائج:
1- بصرہ :
صوبہ بصرہ کے لئے مختص نشستیں: 24
قومی اتحاد (الحکیم): 7
العراقیہ (ایاد علاوی): 3
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 14
2 - میسان :
صوبہ میسان کے لئے مختص نشستیں: 10
قومی اتحاد (الحکیم): 6
العراقیہ (ایاد علاوی): 0
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 4
3 - ذی قار :
صوبہ ذی قار کے لئے مختص نشستیں: 18
قومی اتحاد (الحکیم): 9
العراقیہ (ایاد علاوی): 1
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 8
4 -المثنی :
صوبہ المثنی کے لئے مختص نشستیں: 7
قومی اتحاد (الحکیم): 5
العراقیہ (ایاد علاوی): 2
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 4
5 - القادسیہ:
صوبہ القادسیہ کے لئے مختص نشستیں: 11
قومی اتحاد (الحکیم): 5
العراقیہ (ایاد علاوی): 2
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 4
6 -نجف :
صوبہ نجف کے لئے مختص نشستیں: 12
قومی اتحاد (الحکیم): 5
العراقیہ (ایاد علاوی): 0
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 7
7 -صلاح الدین:
صوبہ صلاح الدین کے لئے مختص نشستیں: 12
العراقیہ (ایاد علاوی): 8
جبہةالتوافق: 2
وحدت عراق اتحاد (جواد البولانی): 2
8 -واسط:
صوبہ واسط کے لئے مختص نشستیں: 11
قومی اتحاد (الحکیم): 4
العراقیہ (ایاد علاوی): 2
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 5
9 -کربلا:
صوبہ کربلا کے لئے مختص نشستیں: 10
قومی اتحاد (الحکیم): 3
العراقیہ (ایاد علاوی): 1
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 6
10 -بابل:
صوبہ بابل کے لئے مختص نشستیں: 16
قومی اتحاد (الحکیم): 5
العراقیہ (ایاد علاوی): 3
حکومت قانون اتحاد (المالکی): 8
11 -الانبار:
صوبہ الانبار کے لئے مختص نشستیں: 14
العراقیہ (ایاد علاوی): 11