9 جون 2026 - 16:19
ایروانی: افغانستان کے منجمد اثاثے بلا شرط آزاد کیے جائیں

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے افغانستان کو درپیش سنگین انسانی اور معاشی بحران کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ افغان عوام کے منجمد اثاثے فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے آزاد کیے جائیں، جبکہ عالمی برادری ملک کی اقتصادی بحالی اور انسانی امداد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے افغانستان کی معاشی اور انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس ملک کے منجمد اثاثے فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے آزاد کیے جائیں۔

ایران کے سفیر اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اب بھی سنگین انسانی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اقتصادی بحالی کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے، منجمد اثاثے بلا شرط آزاد کیے جائیں اور معاشی استحکام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

ایروانی نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد کو سیاسی مقاصد سے پاک رکھا جائے اور افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ تعمیری بین الاقوامی روابط جاری رہیں۔ انہوں نے دوحہ عمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقتصادی مسائل، منشیات اور طرز حکمرانی سے متعلق چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی مندوب نے پوست کی کاشت میں کمی کا خیرمقدم کیا، تاہم خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے لیے متبادل روزگار اور آمدنی کے ذرائع فراہم نہ کیے گئے تو یہ کامیابی دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔

انہوں نے خواتین اور بچیوں کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ عائد پابندیاں ختم کرے۔

سلامتی کے حوالے سے ایروانی نے داعش خراسان کے خطرے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا ضروری ہے۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور مسائل کے حل کے لیے علاقائی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ایروانی نے کہا کہ ایران افغانستان میں استحکام، امن اور ترقی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ، ہمسایہ ممالک، علاقائی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha