8 جون 2026 - 12:45
مآخذ: ابنا
اسرائیل کے خلاف سپاہ کی کارروائی میں خیبر شکن میزائلوں کا استعمال

شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اسرائیل کے خلاف اپنی حالیہ کارروائی میں خیبر شکن نامی ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اسرائیل کے خلاف اپنی حالیہ کارروائی میں خیبر شکن نامی ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔

سپاہ پاسداران نے صہیونی رژیم کی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ علاقوں کے شمال میں واقع “رامات ڈیوڈ” ایئر بیس کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور شاہد ڈرونز کے جیٹ انجن ماڈلز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی میں استعمال ہونے والے میزائل خیبر شکن تھے، جو ٹھوس ایندھن سے چلنے والے جدید بیلسٹک میزائل ہیں۔ یہ میزائل ایران کے مغربی اڈوں سے رامات ڈیوڈ ایئر بیس کی جانب فائر کیے گئے۔

خیبر شکن میزائل پہلی مرتبہ سن 1400 ہجری شمسی میں منظرِ عام پر آیا تھا اور یہ سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تیسرے نسل کے میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس میزائل کے لانچنگ سسٹم میں استعمال ہونے والی DRU ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کی تیاری اور لانچ کا وقت دیگر میزائلوں کے مقابلے میں تقریباً ایک چھٹا رہ گیا ہے، اور صرف 20 منٹ کے اندر میزائل کو فائر کرنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

اسی خصوصیت کی بنا پر خیبر شکن کو مقبوضہ علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کے اسٹریٹجک اور مؤثر ترین میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران خیبر شکن میزائل کے وارہیڈ کے زمین پر اترنے کی ایک تصویر ایک اسرائیلی فوٹوگرافر نے ریکارڈ کی تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha