اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمن اخبار فیلٹ ام زونٹاگ کی رپورٹ کے حوالے سے پینٹاگون کے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت نے یورپ سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے منصوبے کو مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن فوجی اڈوں سے انخلا کیا جائے گا یا اس عمل کی رفتار کیا ہوگی، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں اتحادی ممالک کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن مئی میں پہلے ہی جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کر چکا تھا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی طاقتوں کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی اختلافات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
جرمنی اس وقت یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں تقریباً پینتیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ پینٹاگون کی ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق انخلا کا عمل چھ سے بارہ ماہ میں مکمل ہونا تھا، تاہم حالیہ فیصلے کے بعد اس مدت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی و عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی انخلا میں تیزی سے یورپی سلامتی کی حکمتِ عملی، نیٹو کے مستقبل اور خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
آپ کا تبصرہ