اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کبھی بھی غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتی، کیونکہ برسلز کھل کر کیف کی حمایت کر رہا ہے۔
قبرص میں یورپی وزرائے خارجہ کے غیر رسمی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ ہمیشہ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اپنے اہم سیکیورٹی مفادات کا دفاع کرے گا۔
کایا کالاس نے کہا کہ یورپی ممالک مذاکرات کے دوران روس پر مزید دباؤ بڑھانے اور ممکنہ مطالبات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپی یونین امریکہ کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ ان معاملات پر توجہ دے رہی ہے جنہیں واشنگٹن نے مذاکرات میں شامل نہیں کیا۔
انہوں نے روس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو “ایک جال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسلز اپنے بنیادی سیکیورٹی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کایا کالاس کے بیانات کو “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے بیانات پر تبصرہ نہیں کرتے۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے بھی یورپی مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
آپ کا تبصرہ