29 مئی 2026 - 17:38
حصۂ دوئم | خلیج فارس مغرب سے پاک؛  پانچ صدیوں کے بعد / عمان پر ٹرمپی غصے کے پس پردہ عوامل

عمان پر ٹرمپ کا غصہ اور اس ملک کو بمباری کی دھمکی صاف ظاہر کرتی ہے کہ خطے کی مساواتوں میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے اور امریکہ ـ خاص طور پر خلیج فارس میں ـ مزید یک قطبی طاقت  نہیں رہا اور نہ ہی اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کی طرف سے عمان کو سخت دھمکی میں اہم اور بنیادی نکات پوشیدہ ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ نے خلیج فارس میں اپنی بالادستی اس حد تک کھو دی ہے کہ وہ ایک ایسے ملک (عمان) کو بمباری کی دھمکی دینے کی طرف بڑھ رہا ہے جو خود اس کا دوست اور ہمراہ رہا ہے، اور یہ بھی ایران کے اس بحری نظام اور انتظام کے خلاف ہے جو ایران نے رمضان کی مسلط کردہ جنگ کے بعد نافذ کیا ہے۔

حصۂ دوئم:

اگرچہ اگر یہ دھمکی بالفرض حقیقی ہو اور اس پر عمل درآمد ہؤا تو پھر خود امریکہ ہی متنازعہ بن بن جائے گا؛ کیونکہ خطے کے عرب ممالک اور عمان کے پڑوسی، خود کو اس حقیقت کے سامنے پائیں گے کہ اگر انہوں نے واشنگٹن کی مرضی کے خلاف کوئی کام کیا یا ٹرمپ کی مخالفت میں کوئی موقف اختیار کیا تو انہیں اس کی طرف سے سخت دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہرحال امریکہ نے اب تک یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ناقابلِ اعتبار اور ناقابلِ بھروسہ [اور باغی] ملک ہے۔

ٹرمپ کے سخت الفاظ کہ "آبنائے سب کے لئے کھلے رہیں گے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے" بھی اس سے زیادہ کہ طاقت اور مضبوطی کی علامت ہوں، خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلیِ پر امریکہ کی تشویش کا مظہر ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ تبدیلیوں نے سے بخوبی واضح ہو چکا ہے کہ خطے میں امریکہ کی یکطرفہ فیصلہ سازیوں کے [سابقہ] دور کو شدید چیلنجوں کا سامنا ہے۔

اب ایک نیا فارمولا تشکیل پا رہا ہے؛ ایک ایسا فارمولا جس میں ایران کی کوشش ہے کہ بیک وقت اپنی فوجی طاقت، جغرافیائی-سیاسی پوریشن اور علاقائی تسدیدی صلاحیت (Deterrence Capability) کو بے وقوف دشمنوں کے خلاف دباؤ کے اوزار کے طور پر استعمال کرے۔

درحقیقت ٹرمپ کے غیظ و غضب کا سبب یہ ہے کہ ایک اہم جغرافیۓ میں فارمولے تبدیل ہو چکے ہیں، امریکہ کو کھڈے لائن لگایا جا رہا ہے اور واشنگٹن کے عزائم اور مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ [اور دنیا میں کوئی نہیں ہے جو اس صورت حال سے ناراض ہو یا ایک مرتی ہوئی سلطنت کے لئے سوگواری کرے۔]

بایں حال، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک توانائی کی گذرگاہ نہیں رہا؛ بلکہ یہ خطے کے مستقبل کی ترتیب کے تعین کے لئے مسابقت کی علامت بن گیا ہے جس میں ایران کا پلہ بھاری ہے اور بھاری رہے گا۔

جو کچھ آج، آبنائے ہرمز میں ہو رہا ہے، وہ محض جہازرانی یا بحری قواعد کے تعین کا جھگڑا نہیں، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خطہ طاقت کی نئی تقسیم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

امریکہ جو خود کو برسوں سے بلا شرکت غیرے، خلیج فارس کی غالب طاقت سمجھتا تھا، اب اس حقیقت کا سامنا کر رہا ہے جسے امریکہ کے دستیاب اوزاروں سے قابو میں لانا ممکن نہیں ہے۔

عمان کے خلاف ٹرمپ کا غصہ اور اس کا غیر روایتی اور خلاف قاعدہ تند و تیز لب و سخت لہجہ، سب سے بڑھ کر اس نئی ترتیب کی تشکیل پر واشنگٹن کی تشویش کا مظہر ہے جس میں علاقائی کھلاڑیوں، خاص طور پر ایران نے، امریکہ کے بغیر زیادہ فیصلہ کن کردار حاصل کر لیا ہے۔

ایسی صورتحال میں، فوجی دھمکی اور معاشی دباؤ طاقت کی علامت نہیں، بلکہ امریکہ کی "قائل کرنے کی اہلیت" کم ہوجانے اور بالادستی کے فرسودگی کا اظہار ہے جس کے تمام اسباب خود امریکیوں اور خاص طور پر ٹرمپ ـ اور دوسری طرف نیتن یاہو ـ نے فراہم کئے ہیں۔

آبنائے ہرمز آج محض توانائی کی گذرگاہ نہیں، بلکہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کا مستقبل متعین ہوتا ہے؛ ایک ایسا میدان جہاں ماضی کے برعکس، امریکہ مزید فیصلہ کن کھلاڑی نہیں ہے:

پانچ صدیوں کے بعد مغرب سے پاک خلیج فارس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha