26 مئی 2026 - 17:05

قطر کی وزارتِ خارجہ نے اُن خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوحہ نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کی ضمانت کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ قطری حکام نے ان اطلاعات کو خطے میں امن مخالف عناصر کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد سفارتی کوششوں اور کشیدگی کم کرنے کے عمل کو ناکام بنانا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اخبار “الاخبار” نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک باضابطہ بیان میں ان رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت سے عاری قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ اس قسم کی افواہیں ایسے حلقے پھیلا رہے ہیں جن کا مقصد خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کرنا ہے۔

ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ قطر کی سفارتی کوششیں مکمل شفافیت اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت جاری ہیں، جبکہ اس نوعیت کے جعلی بیانیے دراصل دوحہ کے ایک قابلِ اعتماد عالمی ثالث کے کردار کو متنازع بنانے کی ناکام کوشش ہیں۔

یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ گزشتہ روز مجلسِ شورائے اسلامی ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان کی ثالثی کوششوں کے تحت دوحہ پہنچے تاکہ 28 فروری سے ایران اور امریکہ-اسرائیل محاذ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ حل پر بات چیت کی جا سکے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس اعلیٰ سطحی وفد میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر همتی کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے، جسے جاری مذاکرات کے معاشی پہلوؤں کی اہمیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ میدانِ عمل میں کشیدگی بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں نئے حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جنوبی ایران میں حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے جزیرہ لارک کے جنوب اور آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کسی بھی “بڑے معاہدے” تک پہنچنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha