21 مئی 2026 - 15:49
سلامتی کونسل ٹرمپ کی بار بار دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہ رہے: ایرانی مندوب کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکہ کے صدر کی بار بار اور روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے بدھ کی شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق کہا کہ "شہریوں کا تحفظ صرف ایک انسانی تشویش نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی قوانین، جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایک لازم الاجرا قانونی ذمہ داری ہے۔"

ایروانی نے کہا کہ تاہم، آج عام شہری جان بوجھ کر فوجی حملوں، اجتماعی سزاؤں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ افسوسناک حقیقت غزہ سے لے کر لبنان تک اور حال ہی میں ایران کے خلاف جارحانہ جنگ میں عیاں ہوچکی ہے۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کے حالیہ جارحانہ اقدامات سے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت کو آشکارا ہوگئي ہے۔ انہوں نے یاد دھانی کرانی کہ اس بلا جواز اور وحشیانہ جنگ کے چالیس دن کے دوران جارحین نے جان بوجھ کر عام شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین اور منظم خلاف ورزی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مندوب نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وحشیانہ حملے میں میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور اسے مکمل طور پر تباہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 168 سے زائد معصوم طالبات شہید ہوگئیں۔یہ اقدام کسی طور پر کولیٹر ڈیمج نہیں بلکہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سلامتی کونسل ایسی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس کونسل کا ایک مستقل رکن جو کہ خود ایک جارح ہے اس کے کام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ایروانی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہیے، جس میں ایران پر بمباری کرنے اور ایران کو پتھر کے زمانے میں لوٹانے کی واضح دھمکی، ملک کے اقتصادی، صنعتی اور توانائي کے ڈھانچے کی تباہی، ایٹمی سائنسدانوں اور اعلیٰ ایرانی حکام کو نشانہ بنانا، اور یہاں تک کہ ایرانی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے نے کہا کہ  سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی جانب سے طاقت کے استعمال، جارحانہ اقدامات اور اشتعال انگیز بیان بازی کے اس خطرے کو معمول بنالیا گيا ہے جو خطرناک مثال ہے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت نیز ایران کے خلاف جارحیت میں مدد اور سہولت فراہم کرنے والوں کو ایسے ہولناک جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں کی مکمل قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم کے ارتکاب کی سزا نہ ملنا نہ صرف متاثرین کے ساتھ غداری ہے بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین بھی خطرہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha