اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کی 55 ویں پیراشوٹ بریگیڈ کے ریزرو فورس کے میجر "ڈیوڈ بین زیون" اور علاقائی کونسل "شومرون" کے سربراہ نے کہا ہے کہ لبنانی محاذ کو بغیر کسی واضح حل کے ایک اور بحران میں تبدیل نہيں ہونے دیں گے اور اسرائیلی فوجی یہ نہيں سمجھ سکتے کہ محض تہران پر توجہ کی وجہ سے شمال میں فیصلہ کن کارروائی میں تردد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان میں بنیادی خطرہ اب اینٹی ٹینک میزائلوں یا راکٹوں تک محدود نہیں ہے اب ہم اب دھماکہ خیز ڈرون کے دور میں ہیں کیونکہ ہمارے زیادہ تر فوجی فائبر آپٹک ڈرون سے زخمی ہو رہے ہیں، جو حزب اللہ ہماری فوج کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسے ڈرون طیاروں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کا روایتی طریقوں سے مقابلہ کرنا عملا ناممکن ہے اور انہیں ناکارہ بنانا ممکن نہیں کیونکہ وہ ایک پتلے کیبل کے ذریعے آپریٹر سے منسلک ہوتے ہیں، انہيں بلاک کرنے کے لیے کوئی فریکوئنسی نہیں ہوتی، اور کوئی بھی نظام آسانی سے انہیں ناکارہ نہیں کر سکتا۔
واضح رہے حزب اللہ کے جدید ڈرون طیاروں نے صیہونی حکومت کے لئے بڑے مسائل پیدا کر دیئے ہيں اور تل ابیب کے حکام بارہا لبنان کی اسلامی مزاحمت کے اس مؤثر ہتھیار کے سامنے اپنی لاچاری کا اعتراف کر چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ