اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے سینئر فوجی رہنما محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن ملک کے دفاع اور جنگی میدان میں اس سے بھی زیادہ مضبوط اور سنجیدہ موقف رکھتا ہے۔
ایک خصوصی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پہلے مذاکرات میں عملی قدم اٹھانا ہوگا، کیونکہ ماضی میں واشنگٹن کئی معاہدوں اور وعدوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے ہمیشہ اپنے وعدے پورے کیے، مگر امریکہ نے بارہا عہد شکنی کی۔
محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے دورے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ کمزور پوزیشن میں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف پالیسیوں اور خطے میں ناکامیوں نے واشنگٹن کو عالمی سطح پر دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خود بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتا، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی اس مؤقف کی تصدیق کرتے ہیں۔ رضائی کے مطابق امریکہ کا اصل مقصد ایران کی طاقت کو محدود کرنا اور خطے میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ تجارت کے لیے کھلا ہے، لیکن جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے بقول اگر امریکہ نے خطے میں فوجی دباؤ بڑھایا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران دوستی کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہر ملک کو اپنے اقدامات کے نتائج کا احساس ہونا چاہیے۔
اقتصادی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رضائی نے کہا کہ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات اور نفسیاتی دباؤ ہے، جبکہ کچھ عناصر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے ذریعے حالات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے صبر، اتحاد اور معاشی میدان میں تعاون کی اپیل بھی کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران ایک اہم تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے اور قومی اتحاد و استحکام کے ذریعے مستقبل میں مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ