اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ،روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یورپی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے خطوں پر نظر رکھنے کے بجائے پہلے اپنے اندرونی مسائل حل کریں۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق زاخارووا نے یورپی پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی رہنما چین کے نسلی اتحاد کے قانون پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، جبکہ یوکرین اور خود یورپی یونین میں جاری بدعنوانی، ناانصافی اور قانون شکنی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ دنیا کے دوسرے حصوں پر تنقید کرتی ہے لیکن یورپ کے اندر کئی برسوں سے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور مختلف بحرانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین میں بدعنوانی اور بےقانونی اب حکومتِ کیف کی شناخت بن چکی ہے۔
زاخارووا نے یاد دلایا کہ 30 اپریل کو یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں چین سے نسلی ترقی اور اتحاد کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ یہ قانون تبت، سنکیانگ اور اندرونی منگولیا کے باشندوں پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب جرمن اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا فان ڈیر لائن کی جانب سے یوکرین کو یورپی یونین کے قرضے کی پہلی قسط دینے کے اعلان پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کیف میں مالی بدعنوانی کے اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر اپنے قریبی ساتھیوں سے متعلق کرپشن الزامات کے باعث دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ یورپی امداد کے لیے ضروری کئی شرائط ابھی تک پوری نہیں کی گئیں۔
یوکرین کے انسدادِ بدعنوانی مرکز کی سربراہ داریا کالینیوک نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے یورپی قوانین اور اصلاحات پر عمل نہ کیا تو یورپی یونین کی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ