17 مئی 2010 - 19:30

سعودی حکمران اپنی سیاسی اور مذہبی آمریت کو تقویت پہنچانے کی غرض سے دیگر مذاہب ـ خاص طور پر شیعہ مذہب ـ کے پیروکاروں کو بدترین اذیت و آزار کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اپنی سیاسی اور مذہبی آمریت و استبداد کو تقویت پہنچانے کی غرض سے ان تمام لوگوں کو اذیت و آزار کا نشانہ بنا رہا ہے جو حکمرانوں کی مانند نہیں سوچتے اور اسلام کے سلسلے میں ان کا تصور سعودی عرب پر حمکفرما نظریات و تصورات سے مختلف ہے؛ سعودی حکمران سوچ اور تصور کے اختلاف کی بنا پر ان پر مختلف قسم کے ناروا الزامات لگاتے ہیں، ان کے عقائد و دینی اعمال کو جرم قرار دیتے ہیں اور پھر انہیں جیلوں میں بند کردیتے ہیں اور جیلوں میں بھی انہیں آرام سے نہیں رہنے دیتے بلکہ انہیں شدید ترین جسمانی اور روحانی ٹارچر کا نشانہ بناتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ٹارچر اور اذیت و آزار کا مقصد کیا ہے؟وہ کسی بھی تہمت کو ٹارچر کے ذریعے جرم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اقرار کرواتے ہیں اور پھر سزا دیتے ہیں مگر اس طرح کا ٹارچر تو دنیا جہاں میں رائج ہے جس کی زندہ مثال ابوغریب اور گوانتامو یا پھر بگرام کے قیدخانے ہیں مسئلہ اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے اور وہ یوں کہ سعودی حکمران دینی اور مذہبی عقائد تبدیل کروانے کے لئے بھی ٹارچر کا سہارا لیتے ہیں!!!۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہیں؛ مگر راقم کہتا ہے کہ عراق میں انتخابات ہوں تو سعودی عرب اس ملک کی سرزمین کو اسکڈ میزائلوں کا نشانہ بنانے والے بعثیوں کو دوبارہ بر سراقتدار لانے کے لئے 20 کروڑ ڈالر کے فنڈز فراہم کرتا ہے تا کہ ایاد علاوی انتخابات میں کامیاب ہوں یا پھر ایاد علاوی بعثی افسروں کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹ دیں؛ ایران میں انتخابات ہوں تو وہ انتخابات کے بارے میں منفی تشہیراتی مہم چلاتا ہے اور انسانی حقوق اور حق رائے دہی کا مغربی رونا روتا ہے جبکہ سعودی عرب میں کبھی بھی کوئی انتخابات نہیں ہوئے اور کسی بھی سعودی شہری نے ابھی تک ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا چنانچہ یہ بات ایسے ملک کے لئے درست ہی نہیں ہے جس ملک کے شہری کو ابھی تک انسان کا مقام ہی نہیں دیا جاسکا ہے اور انہیں کسی بھی سطح پر حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر کہیں بلدیاتی انتخابات وغیرہ میں انہیں یہ حق دیا بھی جاتا ہے تو ان سے کہا جاتا ہے کہ یا فلان امیدوار کا ووٹ دو یا زندگی اور سماجی مراعات سے محرومیت کے لئے تیار ہوجاؤ۔ویسے کاغذ کی سطح تک سعودی عرب میں بھی قانون ہے اور قانونِ  تعزیرات کی دفعہ نمبر دو میں صریحا بیان ہوا ہے کہ: "کسی بھی قیدی کو جسمانی یا روحانی اذیت و آزار کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے اور قیدیوں کی تذلیل کے سلسلے میں بھی ہر گونہ اقدام منع ہے"۔اس وقت سعودی عرب میں اذیت و آزار اور بقولے ٹارچر، کا نشانہ بننے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن ایک شخص کے ٹارچر کے بارے میں بیرونی دنیا کو بھی بعض اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ «حسین یوسف الحربی» سعودی جیل میں ٹارچر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے باشندے ہیں اور ان کا جرم واضح ہے؛ اور وہ یہ کہ وہ شیعہ ہیں جو دو ماہ قبل محرم کے ایام میں نواسۂ رسول (ص) امام حسین بن علی علیہ السلام کی عزاداری کے لئے پلے کارڈ نصب کرتے ہوئے دیکھی گئے اور پھر رات کے وقت سعودی گماشتوں کے ہاتھوں گرفتار ہو  گئے مگر انہیں کسی بھی عدالت میں پیش کئے بغیر جیل یا بالفاظ بہتر "عقوبت خانے" بھیج دیا گیا اور وہاں انہیں ٹارچر کا نشانہ بنایا جانے لگا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے نہ جانے کس چیز کا اقرار کروانا مقصود ہے؟ یا پھر انہیں بھی عقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے؟ٹارچر کی شدت اور اس کی مدت اتنی ہوئی کہ یہ خبر جیل کی دیواریں اور دروازے پھلانگ کر باہر آگئی۔ سعودی عرب کی انسانی حقوق کمیٹی کو بھی خبر مل ہی گئی چنانچہ اس کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنطیموں کو «حسین یوسف الحربی» کی رہائی کے لئے آواز اٹھانے کی دعوت دی اور اعلان کیا کہ زیر حراست نوجوان کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری سعودی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یادرہے کہ انسانی حقوق کی سعودی کمیٹی نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں ایام کی ترتیب سے ڈائری کی شکل میں حکمرانوں کی جانب سے اہل تشیع کے خلاف ہونے والی اقدامات طشت از بام کردیئے تھے۔ کمیٹی نے مذکورہ رپورٹ میں اہل تشیع کے خلاف سعودی حکمرانوں کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: سرگرم شیعہ سماجی و مذہبی کارکنوں کو اہل تشیع کے امور میں اہتمام کرنے کے جرم میں اور غیر فعال افراد کو شیعہ ہونے کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے؛ مساجد اور حسینیات کو بند کیا جاتا ہے؛ اہل تشیع کو اپنے ہی علاقوں میں نئی مساجد و امام بارگاہیں ـ حتی کہ قبرستان ـ بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی؛ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت کسی بھی بہانے سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور کسی شیعہ کو جیل بھیجنے کے لئے کسی بھی عدالتی اجازت نامے کی ضرورت نہیں پڑتی؛ انہیں زیارت اور دعا پڑھنے کے جرم میں مارا پیٹا جاتا ہے یا پھر جیل بھیج دیا جاتا ہے و ...

وَمَا لنا أَلاَّ نتوَكّلَ عَلى الله وَقد هَدانا سبلنا وَلنصبرَنّ عَلى مَا آذيتمونا وَعَلى الله فَليتوَكل المتوَكّلونَ *(سوره ابراهیم / آیه12)اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں (ہدایت و کامیابی کی) راہیں دکھائی ہیں، اور ہم ضرور تمہاری اذیت رسانیوں پر صبر کریں گے اور اہلِ توکل کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔..........

/110

ـ احساء میں ایک شیعہ سیاسی و سماجی کارکن گرفتار

ـ سعودی عرب میں شیعہ سنی پرامن بقا‏ئے باہمی کا منشور جاری

ـ سعودی مؤلفہ و ادیبہ کو قتل کردیا گیا

ـ جنت البقیع کے ارد گرد سعودیوں کو ہائی الرٹ کیا گیا ہے

ـ اپنے شاتم کے موقف پر آیت اللہ سیستانی کا دلچسپ رد عمل