بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مذکورہ ذریعے نے امریکہ کی 14 نکاتی تجویز پر ایران کے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تہران نے مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز کے لئے امریکی فریق کو پانچ اعتماد ساز پیشگی شرطیں منتقل کر دی ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان امور کے عملی طور پر پورے ہوئے بغیر کوئی گفتگو نہیں ہو گی۔
ذریعے نے کہا کہ ایران کی اعلان کردہ پیشگی شرطیں، امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کے آغاز کے لئے کم سے کم 'اعتماد ساز ضمانتیں' ہیں؛ جو کچھ یوں ہیں:
1۔ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ؛
2۔ تمام تر پابندیوں کا مکمل خاتمہ؛
3۔ ایران کے تمام منجمد اثاثوں کی آزادی؛
4۔ جنگ کا تاوان ادا کرنا اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا؛
5۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی حکمرانی حق کو تسلیم کرنا۔
اس باخبر ذریعے نے مزید کہا: ایران نے پاکستانی ثالث کو یہ بھی بتایا ہے کہ جنگ بندی کے قیام کے بعد بحیرہ عرب اور خلیج عمان کی حدود میں بحری ناکہ بندی کا تسلسل، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو مزید ناقابل اعتماد بنا دیتا ہے۔
اس ذریعے کے اعلان کے مطابق، ان تمام شرائط کی تعریف صرف مذاکراتی عمل میں واپسی کے لئے "کم از کم اعتماد" پیدا کرنے کے فریم ورک میں کی گئی ہے اور تہران کا ماننا ہے کہ ان امور کی عملی تکمیل کے بغیر نئے مذاکرات کا امکان نہیں ہو گا۔
دستیاب معلومات کے مطابق، ایران نے یہ پانچ پیش شرطیں امریکہ کی 14 نکاتی تجویز کے جواب کے ضمن میں متعین کی ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق، امریکی تجویز مکمل طور پر یکطرفہ تھی اور واشنگٹن کے مفادات کے حصول کے لئے مرتب کی گئی تھی۔
ان ذرائع کے مطابق، امریکیوں نے اس تجویز میں ـ مذاکرات کی میز پر ـ ان اہداف کے حصول کی کوشش کی تھی جو وہ جنگ میں حاصل نہ کر پائے تھے۔
ایران کی طرف سے تاوان کے مطالبے پر ٹرمپ کا غصہ
ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا: "ایک مسئلہ، جس نے ٹرمپ کو بہت ناراض اور نامید کر دیا ہے، وہ ایران کی تجاویز میں 'تاوان' کا مطالبہ ہے؛ کیونکہ روایتی طور پر تاوان "شکست خوردہ فریق" ادا کرتا ہے۔ ٹرمپ کا تاوان اور معاوضہ ادا کرنے سے اتفاق، شکست قبول کرنے سے تعبیر ہو سکتا ہے۔"
واضح رہے کہ 40 روزہ جنگ کے آغاز سے ہی یہ خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ ٹرمپ کو جنگ کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے اور اس کو جنگ کی حقیقی خبریں نہیں پہنچائی جاتیں؛ اور گویا کہ اس کو اب بھی ـ اپنے مشیروں اور حاشیہ برداروں کی وجہ سے ـ یہ معلوم نہیں ہوپایا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو ذلت آمیز شکست اٹھانا پڑی ہے۔
اور پھر داداگیری کی لت میں مبتلا امریکہ کو پہلی بار ایک براہ راست جنگ میں رسواکن شکست سے دوچار ہوکر تاوان کے مطالبے کا سامنا کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ