اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہوگا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد مزید محفوظ اور پُرامن بن جائے گی۔
خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی تعلقات موجود ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ ان تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور ایران و امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان اپنی ضروریات کی بعض اہم اشیاء، خصوصاً گیس اور تیل، عالمی منڈیوں کے بجائے براہِ راست ایران سے زمینی راستے کے ذریعے حاصل کر سکے گا۔
پاکستانی اخبار "ایکسپریس ٹریبیون" کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر امریکہ کو خطے میں امن کی خاطر جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیر دفاع نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی حیثیت کو بھارت کے خلاف "تاریخی کامیابی" کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا تشخص ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو اپنے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی کے بعد مختلف ممالک اور ہمسایہ ریاستیں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بھارت کو اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاہم ان کے بقول نریندر مودی کی حکومت اپنے نظریاتی رویے کی وجہ سے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی۔
انہوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ بھارت، افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف "پراکسی جنگ" چلا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے بعض گروہوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع پاکستان نے آخر میں کہا کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات بہتر ہو جاتے ہیں اور سرحدی کشیدگی ختم ہو جاتی ہے تو پاکستان تمام محاذوں پر زیادہ محفوظ اور بھارت کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن حاصل کر لے گا۔
آپ کا تبصرہ