بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
1۔ گوکہ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں باضابطہ طور پر ایران کے حتمی طور پر ہتھیار ڈالنے کی ضرورت پر بات کی تھی، اب بیشتر تجزیہ کاروں کے اعتراف کے مطابق، وہ بدترین مخمصے میں پھنس گیا ہے، نہ اس کے پاس پیچھے ہٹنے کی صورت ہے اور نہ آگے بڑھنے کی سبیل!
2۔ ایرانی قوم اور مسلح افواج کی استقامت اور جارحانہ ردِ عمل نے دوست اور دشمن دونوں کو حیران کر دیا ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے تمام انٹیلی جنس اداروں کے حسابات پر پانی پھیر دیا ہے۔
3۔ ٹرمپ شروع ہی سے جنگ کے اہداف میں بھی تزویراتی غلطی کا شکار ہؤا اور باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ ایران کا نظامِ تبدیل کرنا چاہتا ہے، ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ اس کو بس ایران کا تیل چاہئے؛ لیکن نہ صرف ان اہداف تک نہیں پہنچا بلکہ اس کے برعکس خلیج فارس کی عرب ریاست میں "امریکیوں کا تیل" بھی ایران کا یرغمالی بن گیا اور اب اس نے اپنے اعلان کردہ اہداف سے تنزلی اختیار کرکے اس نے آخری ہدف آبنائے ہرمز کو کھولنا قرار دیا ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا!
4۔ کذّاب ٹرمپ کی حکمت عملی تعطل کا شکار ہونے کے ساتھ، ٹرمپ کے حامی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے واضح بیان کے مطابق، ٹرمپ کی مقبولیت شدت سے کم ہوئی ہے اور 64٪ امریکی ایران کے خلاف اس کے فوجی نقطہ نظر کے خلاف ہیں
5۔ جنگِ رمضان چالیس دن تک لڑی گئی جس کے بعد جنگ بندی ہوگئی ہے اور ٹرمپ نے اس میں غیر معینہ مدت تک توسیع بھی کر دی ہے لیکن ابھی حالت جنگ باقی ہے یہ جنگ امریکہ اور یورپ کے لئے ایک ڈراؤنا خواب اور فرسودہ کر دینے والی طویل جنگ بن چکی ہے۔ ابھی جنگ کا ایک ہی مہینہ گذرا تھا جب امریکی مالیاتی منڈیاں شدید افراتفری کا شکار ہوئیں اور اس کو 5 ٹریلین ڈالر کیپٹل کی نکلوانی اور کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: میر احمدرضا حاجتر
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ