اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے شہید ڈاکٹر علی لایجانی کے چالیسویں پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آج شہید لایجانی کی کمی بہت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کی شخصیت میں، شجاعت ، صبر وتحمل نیز اندرونی اور بین الاقوامی میدانوں کی مہارت کی آمیزش پائی جاتی تھی اوروہ سنگین سیاسی اور اسٹریٹیجک امور کے ماہر ہونے کے ساتھ ہی ایک معلم اور مفکر بھی تھے۔
وزیرخارجہ سید عباس عراقچـی نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ شہید لاریجانی، سیاست کو وسیلہ اقتدار نہیں بلکہ اخلاقی اور دانشمندانہ ذمہ داریوں کا میدان سمجھتے تھے اور اس خصوصیت نے ان کے اندر سخت ترین مواقع پر صحیح فیصلہ کرنے اور دباؤ کے مقابلے میں تحمل بردباری سے کام لینے کی توانائی پیدا کردی تھی۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ شہید لاریجانی کے اندر حساس اور فیصلہ کن مواقع پر فیصلہ کرنے میں شجاعت پائی جاتی تھی لیکن جو چیز ان کی شخصیت کی گہرائی اور گیرائي بڑھا دیتی ہے، وہ سخت مسائل اور دباؤ کے مقابلے میں ان کا مثالی تحمل تھا جس کی وجہ سے وہ ٹھوس، لیکن پرسکون اور مدبرانہ راستے کا انتخاب کرتے تھے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ شہید لاریجانی صرف ایک ماہر سفارتکار ہی نہیں تھے ملک کے فیصلہ سازی کے نظام میں ایک اطمینان بخش فکری ستون شمار ہوتے تھے اور ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ جس پر پییچیدہ حالات میں تحلیل وتجزیئے، بصیرت اور اسٹریٹیجک نقطہ نگاہ کے حوالے سے بھروسہ کیا جاتا تھا۔
سید عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کا فقدان، صرف ایک فرد کا فقدان نہیں ہے بلکہ ایک فکری اور ملی ستون کا فقدان ہے۔
آپ کا تبصرہ