17 مئی 2010 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹراحمدی نژاد نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی الہی تعلیمات اورعالمی افکارپراستوارہے .

صدرڈاکٹراحمدی نژاد نے کہاکہ توحید وعدل کی بنیادپرایک آفاقی حکومت کے قیام کے بغیر بامقصد امن وصلح قائم نہيں ہوسکتی ۔ڈاکٹراحمد نژاد نےآج دوسرے ملکوں ميں تعینات ایران کے سفیروں اورنمائندہ دفاتر کے سربراہوں کی موجودگی میں کابینہ کے اجلاس سےخطاب کرتےہوئے رسول اسلام (ص) اورحضرت امام جعفرصادق (ع) کے یوم ولادت باسعادت کی مبارکباد پیش کرتےہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کی ۔ صدرمملکت نےکہاکہ توحید ملت ایران کے عقائد و افکارکاپہلا اصول ہے یعنی حکومت کی بنیاد اللہ تعالی کی ذات ہے۔ڈاکٹراحمدی نژاد نےعدل وانصاف کوایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قراردیااورکہاکہ اگر ہمارامقابل فریق  کمزور ہو تب بھی ہمیں کوئی ناحق بات  اس پر مسلط نہيں کرناچاہئے۔ انھوں نےمزید کہاکہ کسی کویہ نہیں سمجھناچاہئے کہ چونکہ امریکی حکام نےگذشتہ عشروں ميں ہماری قوم پر ظلم کیاہے اس لئے ہم بھی امریکی عوام سےکینہ رکھتے ہيں ۔ڈاکٹراحمدی نژاد نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیاکےتمام ملکوں سےدواحترام کی بنیاد پر رابطہ رکھنا چاہتا ہے کہا کہ البتہ ہم صیہونی حکومت کوتسلیم نہيں کریں گے اوراسے بنیادی طورپرغیرقانونی  اورناجائز سمجھتے ہيں۔صدرمملکت نے اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ دنیاکانظام تبدیل ہورہاہے کہاکہ نئےحالات میں اسلامی جمہوریہ ایران نقطہ اعتدال ہے اور جوبھی ایران کےساتھ ہوگاوہ کامیاب رہےگا۔ ڈاکٹراحمدی نژاد نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ صیہونی حکومت کا شیرازہ بکھر رہاہے ،کہاکہ صیہونی حکومت اپنی نجات ، اورماضی کی شکست کی ناکامیوں کی تلافی کاراستہ جنگ اورقوموں پر حملے کوسمجھتی ہے۔ صدرمملکت نے کہاکہ صیہونی حکومت تسلط پسندانہ نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اوریہی  وجہ ہے کہ تسلط پسندانہ نظام اپنی بقاصیہونی حکومت کی بقامیں سمجھتاہے۔