بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || افغان ذرائع نے صوبہ بدخشاں سے رپورٹ دی ہے کہ یہ جھڑپ منگل کی شام تقریباً 6 بجے، 24 فروری (2026)، کو ضلع جرم میں طالبان کے دو مقامی کمانڈروں، مولوی شمس اللہ اور قاری اصیل سے وابستہ افواج کے درمیان پیش آئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والا فرد اور زخمی طالبان کے تاجک نژاد ارکان تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، زخمیوں کو علاج کے لئے بدخشاں کے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جھڑپ میں ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔
جھڑپ کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور طالبان حکام نے بھی اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
چند روز قبل بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں، بدخشاں کے لئے طالبان کے گورنر اسماعیل غزنوی سے وابستہ افراد اور اس گروپ کے مقامی جنگجوؤں کے درمیان ضلع 'شہر بزرگ' میں سونے کی کانوں پر جھڑپ ہوئی تھی، جس میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اندرونی اختلافات، خاص طور پر اقتصادی وسائل اور مقامی اثر و رسوخ پر، بدخشاں میں پہلے سے موجود ہیں اور ماضی میں بھی ایسے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق، بدخشاں میں طالبان کے گروپوں کے درمیان جھڑپوں کا اعادہ وسائل، مقامی اقتدار اور ڈھانچوں پر اندرونی اختلافات میں اضافے کا شاخسانہ ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ