اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب الحق کے سیکریٹری جنرل «حسن زيد» نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن میں اپنے لئے مالی آمدنی کے وسائل حاصل کرنے کے مقصد سے یمن کی خانہ جنگی میں کود پڑا تھا اور ریاض کا مطمع نظر مکمل طور پر مالی مفادات پر مبنی تھا چنانچہ وہ اب صعدہ کے خلاف اپنی جنگ بند کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہا۔

زید نے کہا: شمالی یمن میں حوثی مسلمانوں کے خلاف سعودی عرب کی طرف سی جنگ جاری رکھنے پر اصرار ایسے حال میں سامنے آرہا ہے کہ حکومت یمن جنگ بندی کے اعلان کے بعد اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرچکی ہے اور یمن میں جنگ جاری رکھنے کے لئے اس کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یمن کے اندر صلح صفائی کے لئے ماحول مناسب ہے اور جنگ جاری رکھنے کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ جنگ اس ملک میں زیادہ سے زیادہ ویرانی اور مشکلات و مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ انھوں نے کہا: یمن کی خانہ جنگی گہرے اسباب و عوامل پر استوار ہے اور مکمل صلح صفائی کے لئے وقت درکار ہے اور یمن کا صدر بھی جنگ بندی کے سلسلے میں سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں کوشش بھی کررہا ہے۔ حزب الحق کے سیکریٹری جنرل نے کہا: حکومت یمن میں بھی البتہ ایسے افراد ہیں جو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات کی خاطر جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہیں اور یہ لوگ یمن کی حاکمیت میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جب تک جنگ جاری رہے گی یمن کا صدر بھی ان کو اہمیت دیتا رہے گا اور اگر جنگ بند ہوجائے تو ان کی اہمیت نہ رہے گی چنانچہ ان کی کوشش ہے کہ بحران جاری رہے اور اپنی قوم کے بچوں کا خون بہا کر وہ اپنے مفادات حاصل کریں۔ انھوں نے کہا کہ یمن میں جنگ کا خاتمہ صرف جنگی بندی کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر حل ہونا چاہئے اور مسلسل جنگوں کے عوامل کا علاج ہونا چاہئے۔ .....
/110