9 ستمبر 2026 - 16:14
ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے تعلقات پر نیا انکشاف؛ ’’وہ ٹرمپ سے خوفزدہ تھا‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوانح عمری کے مصنف اور صحافی مائیکل وولف نے دعویٰ کیا ہے کہ جنسی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ان سے خوفزدہ ہوگیا تھا۔ وولف کے مطابق ایپسٹین کا خیال تھا کہ اس کے پاس ٹرمپ سے متعلق حساس معلومات موجود ہیں، تاہم وہ ان معلومات کو منظر عام پر لانے کے نتائج سے بھی خوفزدہ تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رائے الیوم نے ڈیلی بیسٹ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صحافی اور مصنف مائیکل وولف نے اپنے سب اسٹیک نیوز لیٹر میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے دیرینہ تعلقات سے متعلق نئی تفصیلات بیان کی ہیں۔

وولف کے مطابق، ٹرمپ کے سابق دوست ایپسٹین کا خیال تھا کہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد حالات تبدیل ہوگئے ہیں اور اب امریکی صدر کی طاقت اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

وولف نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے پاس ایسی انتہائی حساس معلومات موجود تھیں جو ٹرمپ اور خود اس کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی تھیں، تاہم دوسروں کی جانب سے ان معلومات کو منظر عام پر لانے کی ترغیب کے باوجود ایپسٹین نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔

مائیکل وولف کے مطابق، ایپسٹین کو خدشہ تھا کہ معلومات افشا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں اور وہ اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

رپورٹ میں 2004 کے ایک جائیداد کے تنازعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جب ایپسٹین اور ٹرمپ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تھا۔ وولف کے بقول، اس دوران ایپسٹین نے ٹرمپ کو ایک بااثر روسی تاجر سے متعلق مبینہ مالی بدعنوانی کے منصوبے کی معلومات منظر عام پر لانے کی دھمکی دی تھی۔

وولف کے مطابق، کچھ عرصے بعد فلوریڈا کے پام بیچ پولیس نے کم عمر لڑکیوں سے ایپسٹین کے مبینہ تعلقات کے حوالے سے تحقیقات شروع کیں۔ ایپسٹین کا خیال تھا کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے میں ٹرمپ کا کردار تھا۔

مائیکل وولف نے مزید کہا کہ اپنی کتاب ’’محاصرہ: ٹرمپ زیرِ حملہ‘‘ میں ان معاملات سے متعلق بعض معلومات شائع کرنے کے بعد ایپسٹین نے اسے بتایا تھا کہ ان تفصیلات کو سامنے لانا ’’غلطی‘‘ تھی۔ وولف کے مطابق، تقریباً ایک ماہ بعد ایف بی آئی نے پیرس سے واپسی پر ایپسٹین کو گرفتار کرلیا۔

صحافی کے مطابق، ایپسٹین خود کو ایسی پوزیشن میں سمجھتا تھا جہاں اسے پسِ پردہ معاملات کے بارے میں ضرورت سے زیادہ معلومات حاصل تھیں اور وہ سمجھتا تھا کہ ٹرمپ کے لیے ایک ’’خطرناک شخص‘‘ بن چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسے احساس ہوا کہ امریکی صدر بھی اس کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مائیکل وولف کی جانب سے پیش کی گئی یہ تفصیلات ان کے بیان اور روایت پر مبنی ہیں اور ان سے مذکورہ دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوتی۔

تازہ انکشاف کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے ماضی کے تعلقات ایک بار پھر امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha