24 فروری 2026 - 06:28
ایران نہ زوال پذیر ہوگا، نہ ہی رعایت دے گا، امریکی اسٹراٹیجسٹ

ایک امریکی اسٹراٹیجسٹ نے شکست خوردہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ فضائی حملے نہ نظام تبدیل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ہی ایران کو سیاسی مراعات دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی فوجی اور سیکورٹی ماہر "جیسن کیمبل" (Jason H. Campbell) نے ایران کے سامنے امریکی فوجی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ فضائی حملوں سے کوئی سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

انھوں نے "العربی الجدید" ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے، ایک ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دو طیارہ بردار بحری بیڑوں اور علاقے میں موجود دیگر لڑاکا طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے کئی ہفتوں تک ایران پر فضائی حملے کر سکتا ہے، لیکن اس کے بعد وہ حملے جاری نہیں رکھ سکے گا۔

کیمبل نے مزید کہا: "آپ کئی ہفتوں کا سوچ سکتے ہیں، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ چار یا چھ ہفتوں سے زیادہ ہوگا، کیونکہ اس سے آگے آپریشن جاری رکھنے کے لئے بحری جہازوں اور طیاروں کے لئے بھاری مقدار میں ایندھن اور سامان کی دوبارہ فراہمی ضروری ہوگی اور یہ صورت حال خود "حقیقی حکمت عملی کے مقاصد" کے بارے میں "سوالات" کھڑے کرتی ہے۔"

کیمبل  نے زور دے کر کہا کہ "اگرچہ امریکہ چند دنوں میں ایران کے فوجی ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن یہ نقصان خاصی قربانیوں اور عظیم نقصانات برداشت کرنے کے بغیر نہیں ہوگا۔"

انھوں نے آگے چل کر ٹرمپ کے ذہن میں کسی واضح اور صحیح حکمت عملی کے فقدان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "کچھ ہفتوں بعد کن مقاصد کا حصول مقصود ہے؟ یہ مقاصد مطلوبہ مقاصد سے کس قدر مطابقت رکھتے ہیں؟ آپریشن کی پائیداری کی حد کتنی ہے اور فضائی حملے کب تک جاری رکھے جا سکتے ہیں؟ ان اقدامات سے امریکی وسائل پر کیا اثر پڑے گا اور طیارہ بردار بحری جہازوں اور دیگر بحری جہازوں کی دوبارہ فراہمی کی ضرورت کو کیسے پورا کیا جائے گا؛ اس فرض کے ساتھ کہ ابھی تک اس مقصد کے لئے سنجیدگی سے کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے؟"

اصحاب فیل بخش دوم | داستان های قرآنی - سایت موسسه معراج النبی

ناقص حکمت عملی

کیمبل نے امریکی فوجی کمانڈروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے نظام کے خاتمے کے لئے مسلسل بمباری کی حکمت عملی انتہائی ناقص ہے۔"

انھوں نے ویتنام میں آپریشن "رولنگ تھنڈر" کا حوالہ دیا جو پورے تین سال جاری رہا لیکن اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہ کر سکا۔

اس امریکی اسٹراٹیجسٹ نے زور دے کر کہا: "ایران میں مسلسل فضائی بمباری اور نظام کی تبدیلی کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا مطلب نظام کی تبدیلی نہیں ہے۔ ایران کے پاس اب بھی [ان کے بقول] تقریباً 1000 بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔"

انھوں نے ایران کو مذاکرات کی میز پر مراعات دینے پر مجبور کرنے کی غرض سے کی جانے والی فضائی بمباری کو بھی ناکام قرار دیا اور کہا: "تجربہ بتاتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول میں فضائی بمباری کا اثر بہت زیادہ محدود ہے۔"

ایران نہ زوال پذیر ہوگا، نہ ہی رعایت دے گا، امریکی اسٹراٹیجسٹ

مسئلے پر اسرائیلی نقطہ نظر

کیمبل نے اس سوال کے جواب میں ـ کہ آیا یہ جنگ زیادہ امریکی ہے یا اسرائیلی، ـ اشارہ کیا کہ "بنیامین نیتن یاہو، دسمبر 2025 کے آخر میں واشنگٹن گئے تھے تاکہ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی مخالفت کریں۔"

انھوں نے کہا: "ہم نے سنا کہ نیتن یاہو نے ایران کے میزائلوں یا فضائی دفاعی نظاموں کی تعمیر نو پر زیادہ محدود حملوں کا بھی مطالبہ کیا، کیونکہ یہ اسرائیل کی اولین ترجیح ہے۔ اس لئے اگرچہ میں نہیں جانتا کہ اسرائیل لازمی طور پر مکمل جنگ کا حامی ہے ـ جو خود غیر یقینی صورتحال اور وسیع سیاسی تبدیلیوں سے دوچار ہے ـ لیکن وہ یقینی طور پر ایران کے فوجی ٹھکانوں پر محدود حملوں کی حمایت کریں گے اور اس کے نتیجے میں ایران کے ردعمل کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔"

ایران نہ زوال پذیر ہوگا، نہ ہی رعایت دے گا، امریکی اسٹراٹیجسٹ

امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی ذخائر میں کمی

جیسن کیمبل نے "العربی الجدید" کو جو نمایاں نکات پیش کئے ان میں سے ایک ان کا یہ تجزیہ تھا کہ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے فضائی دفاعی نظاموں کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا: "یہ عنصر خاص طور پر ایران کی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت کے پیش نظر، کسی بھی نئے آپریشن کی پائیداری کے جائزے پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔"

انھوں نے وضاحت کی کہ "دفاعی ذخائر اہم کنجیوں میں شامل ہیں۔ اطلاعات بتاتی ہیں کہ امریکہ پیٹریاٹ اور تھاڈ نظاموں کے لئے علاقے میں مزید تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ایجیس میزائل بیڑوں میں سے کچھ کو مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ ایک بار پھر اسرائیل کے لئے دفاعی ڈھال فراہم کیا جا سکے۔ لیکن ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ اسرائیل کس حد تک دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے دفاعی ذخائر کی تعمیر نو کرنے میں کامیاب رہا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں گذشتہ نومبر میں اسرائیل میں تھا اور بات چیت کا ایک حصہ یہ تھا کہ اگر اسرائیل اپنے دفاعی نظاموں کی تعمیر نو کر لیتا ہے تو امکان ہے کہ مناسب وقت پر دوبارہ ایران پر حملہ کرے، کچھ اندازوں کے مطابق یہ غالباً 2026 کے موسم گرما کے آخر یا موسم خزاں کے شروع میں ہوگا، اس لئے یہ وقت ابھی قبل از وقت ہے۔"

انھوں نے امریکہ کی صورتحال کے بارے میں بھی کہا: "امریکہ نے 12 روزہ جنگ کے دوران تقریباً 100 تھاڈ میزائل استعمال کیے اور 2025 میں صرف 12 یا 13 تھاڈ میزائل اپنے ذخائر میں شامل کر سکا اور ایسا لگتا ہے کہ 2026 میں بھی اتنی ہی مقدار اپنے ذخائر میں شامل کر سکے گا؛ یہ مقدار یقینی طور پر 12 روزہ جنگ کے دنوں کے ذخائر کی تعمیر نو کو ممکن نہیں بنا سکے گی جبکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجی فیصلہ سازی اور آپریشن کی پائیداری کے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔"

اس امریکی اسٹراٹیجسٹ نے آگے چل کر پچھلے سات مہینوں میں ایران کی اپنے ذخائر کی تعمیر نو کی صلاحیت کا ذکر کیا اور کہا: "ہم پوری طرح نہیں جانتے کہ ایران اپنے کتنے میزائل دوبارہ استعمال کے قابل بنا سکا ہے، لیکن یہ تعداد جو بھی ہو، یہ کسی بھی ممکنہ حملے کے آپشنز اور پائیداری کا تعین کرنے والا اہم عنصر ہوگی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسن ایچ کیمبل (Jason H. Campbell) مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ میں سینئر محقق ہیں اور ان کی توجہ بین الاقوامی سلامتی، جیو پولیٹکس اور خارجہ پالیسی پر مرکوز ہے۔ وہ اس سے پہلے رینڈ انسٹی ٹیوٹ میں بھی سینئر محقق رہ چکے ہیں اور تزویراتی مقابلوں، سیکورٹی تعاون پروگراموں کی تشخیص اور بے قاعدہ جنگوں کے مستقبل کے موضوعات پر متعدد مقالات لکھ چکے ہیں۔ کیمبل کا امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) میں انتظامی تجربہ بھی ہے اور وہ جنوبی ایشیا کی حکمت عملی اور طالبان کے امن عمل میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ کیمبل، جو اس وقت مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ میں سینئر محقق ہیں اور 2016 سے 2018 کے درمیان امریکی وزیر جنگ کے دفتر میں کام کر چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha