اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یروشلم اور تل ابیب میں سینکڑوں صہیونی شہریوں نے وزیراعظم بنیامین نتانیہو کی کابینہ کے خلاف احتجاج کیا، جو بعض مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق، مظاہرے کئی مسائل کے خلاف تھے، جن میں انتہا پسند ارتھوڈوکس یہودی (حریدی) کی فوجی خدمت سے استثناء، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد کابینہ کی ناکامی اور اسرائیل کی عرب شہریوں پر مشتمل کمیونٹی میں بڑھتی ہوئی تشدد میں پولیس کا کردار شامل ہے۔
تل ابیب کے مرکزی میدان ہبیما میں سینکڑوں شہری جمع ہوئے، جبکہ یروشلم کے پاریس اسٹریٹ میں بھی مظاہرین جمع ہوئے جہاں پولیس کے ساتھ جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
اسرائیلی پولیس نے اس احتجاج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے سڑکیں بند کیں، ٹریفک میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ آتش گیر مواد بھی استعمال کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو "شرور اور ہنگامہ آرائی کرنے والے" قرار دیا اور کہا کہ جب مظاہرین نے ہدایات پر عمل نہیں کیا تو نظم قائم کرنے کے لیے فورس اور ہنگامہ مخالف آلات استعمال کیے گئے۔
مظاہرین نے حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت کو لازمی بنانے کا مطالبہ کیا، ایک ایسا اقدام جس کے خلاف اسرائیلی دائیں بازو کی جماعتیں خبردار کر چکی ہیں کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو وہ حکومتی اتحاد کو ختم کر دیں گی۔
اس کے علاوہ مظاہرین نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگ کے تناظر میں وزیراعظم نتانیہو کی ناکامی پر بھی احتجاج کیا۔
اس دوران اسرائیل کے عرب شہری علاقوں کے عہدیداروں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ عربی آباد علاقوں میں جرائم پر قابو نہیں پا رہی، جس کی وجہ سے وہاں جرم اور تشدد کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ