اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو یا مجوزہ ’’غزہ امن کونسل‘‘ کے اخراجات کے لیے کوئی مالی تعاون فراہم نہیں کرے گی، حالانکہ دو سال سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے دوران غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تل ابیب نے باضابطہ طور پر واشنگٹن کو مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ امن کونسل کے لیے کسی قسم کا بجٹ مختص نہیں کرے گا۔ اس کونسل کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کو غزہ کی تعمیرِ نو یا کونسل کے زیر نگرانی کام کرنے والی فورس کے اخراجات میں عدم شرکت کے واضح اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں طویل جنگ کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی کابینہ کے رکن زیئیو ایلکن نے ایک ریڈیو انٹرویو میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس کونسل کو کوئی فنڈ فراہم نہیں کرے گا اور اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پر حملہ ہوا تھا، اس لیے غزہ کی تعمیرِ نو کے اخراجات برداشت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر نے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ کونسل کے عملی اخراجات میں حصہ ڈالیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات نے ایک ایک ارب ڈالر سے زائد امداد دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کونسل کے ارکان اب تک تقریباً پانچ ارب ڈالر جمع کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مالی شرکت سے انکار مستقبل میں غزہ کے لیے کسی نئے امن یا انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ