اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں آئندہ مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل ایک ہزار سے زائد مقامی کونسل اراکین نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جسے ملکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ عہد دسمبر میں فلسطین سولیڈیرٹی کمپین پی ایس سی کی جانب سے شروع کیا گیا اور اسے ’ووٹ فار فلسطین 2026 اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ اس اقدام کے تحت منتخب نمائندے اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ ان کی کونسلیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث اداروں یا سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔
اس مہم کے تحت ایک اہم تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کونسلوں کے پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری اُن کمپنیوں سے واپس لی جائے جو مبینہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں کردار ادا کرتی ہیں۔ مہم کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 31 کونسلیں اس حوالے سے قراردادیں منظور کر چکی ہیں یا اس کی حمایت میں بیانات جاری کر چکی ہیں۔ سروے کے مطابق تقریباً 46 فیصد ووٹرز اس مؤقف کے حامی ہیں جبکہ 14 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
دستخط کرنے والے 1028 کونسل اراکین میں سے بڑی تعداد گرین پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس اور کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھتی ہے، جب کہ متعدد ارکان دیگر علاقائی جماعتوں یا آزاد حیثیت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبر پارٹی کو قومی سطح پر حمایت میں کمی کا سامنا ہے اور بعض اہم کونسلوں میں اس کی پوزیشن کمزور ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر واضح مؤقف نہ اپنانا انتخابی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ادھر برطانیہ میں فلسطین کا معاملہ سیاسی اور قانونی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حالیہ مہینوں میں احتجاجی سرگرمیوں پر ممکنہ پابندیوں اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات آزادیٔ اظہار اور پُرامن احتجاج کے حق کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ بلدیاتی انتخابات میں فلسطین کا مسئلہ کئی حلقوں میں اہم انتخابی موضوع بن سکتا ہے اور اس کے سیاسی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ