16 فروری 2026 - 23:05
کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

کیلیفورنیا کے گورنر کے بیانات نے امریکہ کی سیاسی اور اخلاقی بنیادوں میں موجود، گہرے بحران کو آشکار کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج امریکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عدم استحکام کا ذریعہ بن گیا ہے۔ یہ اعتراف امریکی بالادستی کے زوال اور عالمی نظام کی کثیر‌قطبیت کی طرف منتقلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر اور مشہور ڈیموکریٹ سیاستدان گَیون کرسٹوفر نیوسم (Gavin Christopher Newsom) کے حالیہ بیانات امریکی ڈھانچے کے اندر موجود بحران کی گہرائیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ انھوں بے اپنی عدیم المثال تقریر میں اعلان کیا: "امریکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عدم استحکام کا ذریعہ ہے۔"

امریکہ کی امیر ترین ریاست ـ جو جدید ٹیکنالوجی اور تہذیب کی علامت سمجھی جاتی ہے ـ کے گورنر کی زبان سے اس طرح کے اعتراف کا مفہوم یہ ہے کہ اس ملک کی عالمی بالادستی حتمی زوالِ سے دوچار ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

اگر دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام میں امریکہ نے اپنا تعارف "معمارِ استحکام" کے طور پر کرایا، اور اقوام متحدہ، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور نیٹو کا قیام اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں، تو اکیسویں صدی کے آغاز سے، ـ خاص طور پر عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد، ـ امریکہ کی تصویر "استحکام قائم کرنے والی طاقت" سے "فتنہ پھیلانے والے عنصر" میں تبدیل ہو گئی۔

نیوسم بالکل اسی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ امریکی خارجہ پالیسی کی سرکاری تہوں کے برعکس اعتراف کرتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے عصری بحران (مشرق وسطیٰ سے یوکرین اور حتیٰ کہ عالمی معیشت تک) درحقیقت واشنگٹن کی جذباتی اور غیر متوقعہ پالیسیوں کا عکس ہیں۔

وہ پالیسی جس کی نمایاں علامت ٹرمپ  تھے، اتحادیوں کے خلاف اچانک محاصل (ٹیرف) عائد کرنا، معاہدوں سے یکطرفہ علیحدگی، صہیونی ریاست کی لامحدود اور غیر مشروط حمایت، اور خارجہ تعلقات کو ذاتی سودے بازیوں کا آوزار بنانے کی کوشش۔

کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

ٹرمپ کا خاندان: بدعنوان سرمایہ داری کی علامت

نیوسم نے اپنے ایک طعن آمیز (Ironic) جملے میں "بیرونی دوروں میں ٹرمپ خاندان کی موجودگی" کا حوالہ دیا۔ یہ ساختی (Structural corruption) بدعنوانی اور سفارت کاری کو خاندانی کاروبار میں تبدیل ہونے کی علامتی نشاندہی ہے۔ یہ تنقید نہ صرف ٹرمپ بلکہ امریکی ڈھانچے کے ایک بڑے حصے پر بھی ہے، ایسا ڈھانچہ جو برسوں سے سرمائے اور حکمرانی میں فرق کا قائل نہیں ہے۔

گیون کرسٹوفر نیوسم کہتے ہیں: "کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کے زیادہ تر بیرونی دوروں میں کونسی چیز مشترک ہے؟ ٹرمپ خاندان کے ارکان سب سے پہلے وہاں پہنچتے ہیں تاکہ راستہ ہموار کر سکیں؛ تاکہ عمارتوں، گولف کورسز، سرمایہ کاریوں اور ڈیجیٹل کرنسیوں کے سودے کی راہ ہموار کر سکیں۔"

یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ لبرل اشرافیہ کی نظر میں بھی امریکی خارجہ پالیسی اب قومی مفاد کی خدمت میں نہیں بلکہ امیر طبقات کی خاندانی اجارہ داری کا آلہ کار بن چکی ہے۔

یہ وہی رجحان ہے جسے واشنگٹن پوسٹ نے "شیڈو ڈپلومیسی Shadow Diplomacy" کا نام دیا تھا۔ شیڈو ڈپلومیسی: جہاں سرمایہ حکمرانی پر حاوی ہو جاتا ہے، اس کے برعکس نہیں۔ ایسی صورت حال سلطنتوں کے زوال کے آخری مرحلے کی واضح علامت ہوتی ہے۔ جیسے رومی سلطنت میں زمیندار اشرافیہ نے فوج اور ریاستی اداروں کی جگہ لے لی اور مرکزی حکومت امراء کی خدمت گزار بن گئی۔

اندرونی ہم آہنگی فقدان، وسیع پیمانے پر غربت جیسے شدید اقتصادی مسائل، قرضوں کا بحران اور وفاقی بجٹ خسارہ، فوجی مداخلتوں سے عالمی بیزاری، روزگار برقرار رکھنے کے لئے دفاعی صنعت پر بڑھتا ہؤا انحصار، تجارت کی بنیاد کے طور پر ڈالر پر عالمی بداعتمادی، اقوام پر ظلم وستم اور ان کے وسائل کی لوٹ مار، دنیا بھر میں دہشت گردوں کی حمایت، سیاسی مقبولیت کا فقدان اور عالمی ترتیب (World order) کو سمت دینے کی صلاحیت کا فقدان، یہ سب امریکہ کے خاتمے کے عوامل اور زوال کے تشکیل دہندہ اجزاء ہیں۔

کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

سماجی یکجہتی کا زوال

پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ ترین سروے کے مطابق، 65 فیصد سے زیادہ امریکیوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک "غلط" سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح کے ایک سروے میں جو گیلپ نے دسمبر 2025 میں شائع کیا، کانگریس پر اعتماد کی شرح صرف 8 فیصد اور صدر پر 25 فیصد سے کم بتائی گئی؛ جو 1970 کی دہائی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اس طرح کے ساختی عدم اعتماد والا معاشرہ دیر یا سویر، شدید سماجی انقسام کا شکار ہو جاتا ہے، جسے ذرائع ابلاغ "دوسری امریکی خانہ جنگی (Second American Civil War)" کا نام دے رہے ہیں۔

معاشی اور مالی زوال

سنہ 2025 کی سالانہ معاشی صورتحال کے حوالے سے دی اکانومسٹ (The Economist) کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، وفاقی قرضوں کا مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) سے تناسب 125 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے؛ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو 2008 کے مالی بحران میں صرف 65 فیصد تھیں۔ دوسری طرف، آمدنی میں عدم مساوات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ امریکہ کے تین بڑے ارب پتیوں کی دولت ملک کی 50 فیصد غریب ترین آبادی کے برابر ہے۔

یہ عدم مساوات ٹرمپ اور حتیٰ کہ ان سے بھی زیادہ انتہا پسند عناصر کے لئے راہ ہموار کرتی ہے اور امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی مقبولیت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔

خارجہ پالیسی کا بحران اور تزویراتی عدم استحکام

افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء، یوکرین کے بحران پر قابو پانے میں ناکامی، عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ گہرا اختلاف، اور سب سے اہم بات، غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی یک طرفہ اور انتہائی مہنگی حمایت، سب نے مل کر "بحران کا سرچشمہ: امریکہ" کے عالمی بیانئے کو تقویت دی ہے۔

یوگاو گلوبل سروے (YouGov Global Survey) کے سنہ 2025 کے آخر میں کیے گئے سروے میں، یورپی ممالک میں 40 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی "عالمی امن کے لئے خطرہ" ہے۔

نیوسم نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کہا: "ٹرمپ تاریخی طور پر عوام میں قابل نفرت شخص ہیں۔ وہ درمیانی مدت کے انتخابات میں بری طرح ہار جائیں گے، انہیں بری طرح کچل دیا جائے گا۔" "ٹرمپ جلد ہی محاصل (ٹیرفس) عائد کرنے کی صلاحیت کھو دیں گے۔ عدالت عظمیٰ چند مہینوں میں یہ اختیار ان سے چھین لے گی۔" دی اکانومسٹ (The Economist) اور اپسوس (Ipsos) کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان کا جائزہ حقیقت پر مبنی ہے۔ مغربی اداروں کی سروے رپورٹیں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی خبر دیتے ہیں۔ جدید امریکی تاریخ میں کسی واپس آنے والے [اور دوبارہ منتخب ہونے والے] صدر کی بدترین کارکردگی۔

کیلیفورنیا کے گورنر اسی نکتے پر انگلی رکھتے ہیں: "اخلاقی ساکھ کا فقدان اور امریکی اقدار پر عالمی اعتماد کا خاتمہ۔" نیوسم نے "امریکی ڈھانچے کے اندر سے امریکہ کے زیریں نظام کے خاتمے" کی حقیقت کو زبان پر جاری کر دیا ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم

وہ یہ بھی کہتے ہیں: "ٹرمپ عارضی ہیں اور ان کی 'میگا' (Make America great again) تحریک بھی تین سال میں ختم ہو جائے گی۔" اس عمل کا تسلسل، یعنی یہ کہ امریکہ عالمی ترتیب کے مرکز سے غیر مرکزی کھلاڑیوں میں سے ایک بن کر رہ جائے گا۔

نیوسم کی اہلیہ نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا: "میں اپنے بچوں کو اس طرح نہیں پالوں گی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا قابل قبول رہنما سمجھیں۔ وہ ایک جعل ساز، ایک جنسی شکاری، ایک مہلک نرگسیت پسند (Narcissist) ہیں۔ اور ہمارے ملک کی تاریخ کے بدترین صدر ہیں۔"

محاذ مقاومت کی طاقت کی ظہور پذیری، ٹیکنالوجی اور توانائی کی منڈیوں میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، ڈالر سے یورپ کی مالی آزادی اور برکس پلس جیسے ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ، دنیا امریکی نظام کے متبادل نظام میں داخل ہو رہی ہے۔ واشنگٹن نہ صرف اس عبوری مرحلے کا انتظام کرنے کے قابل نہیں رہا ہے بلکہ خود اس کی رفتار میں اضافہ کرنے کا سبب بن گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد حسین حمزہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha