9 فروری 2026 - 17:42
مآخذ: ابنا
لکشدیپ میں بھارتی حکومت کی جانب سے جبری زمین کے حصول کے خلاف مسلم آبادی کے وسیع پیمانے پر احتجاج

بحیرۂ عرب میں واقع لکشدیپ جزائر کے مسلم باشندوں نے اگاتی  جزیرے میں مقامی رضامندی کے بغیر زمین کے جبری حصول کے بھارتی مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی قبائلی حقوق، ماحولیات اور ثقافتی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

لکشدیپ میں بھارتی حکومت کی جانب سے جبری زمین کے حصول کے خلاف مسلم آبادی کے وسیع پیمانے پر احتجاج

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،  بحیرۂ عرب میں واقع لکشدیپ جزائر کے مسلم باشندوں نے اگاتی  جزیرے میں مقامی رضامندی کے بغیر زمین کے جبری حصول کے بھارتی مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی قبائلی حقوق، ماحولیات اور ثقافتی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بھارتی حکومت کے زیرِ انتظام لکشدیپ کی انتظامیہ نے اگاتی جزیرے میں تقریباً 101 ہزار مربع میٹر نجی زمین حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو جزیرے کے کل رقبے کا تین فیصد سے زائد بنتا ہے۔ یہ زمین سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اگاتی، لکشدیپ کے صرف دس آباد جزیروں میں سے ایک ہے اور یہی علاقہ یونین ٹیریٹری کے واحد ہوائی اڈے کا بھی میزبان ہے۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ لکشدیپ جیسے محدود رقبے والے خطے میں زمین نہایت قیمتی ہے، جو اکثر اجتماعی ملکیت میں ہوتی ہے اور لوگوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق، جنوری کے آغاز میں جاری کیے گئے زمین کے حصول کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مقامی کونسلوں اور زمین مالکان کی منظوری “لازمی نہیں” ہے، حالانکہ بھارت کے قومی قوانین، بالخصوص قبائلی علاقوں سے متعلق قوانین، سماجی اثرات کے جائزے اور مقامی رضامندی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان ماحولیاتی ضوابط کے بھی منافی ہے جو نازک مرجانی (coral) نظامِ ماحولیات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ قبائلی امور کے وفاقی اداروں کو بھیجے گئے ایک یادداشت میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شفافیت اور مشاورت کے بغیر قبائلی زمینوں کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔

لکشدیپ کی آبادی کا 96 فیصد سے زائد حصہ مسلم ہے اور یہ علاقہ سرکاری طور پر قبائلی خطہ قرار دیا گیا ہے۔ مقامی اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندو قوم پرست حکومت کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت جزائر میں انتظامی کنٹرول بڑھایا گیا اور منتخب نمائندوں کے اختیارات کم کیے گئے۔

اس سے قبل بھی گائے کے گوشت پر پابندی، شراب پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجاویز، اور تعلیمی نصاب سے عربی اور مقامی زبانوں کے اخراج جیسے اقدامات کے خلاف “سیو لکشدیپ” تحریک کے تحت بڑے پیمانے پر احتجاج ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں مقامی مذہبی اور ثقافتی اقدار سے متصادم ہیں۔

زمین کے حصول کے منصوبے کی دوبارہ بحالی کے بعد خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر سیاحتی منصوبے اور کنکریٹ سے بنی ساحلی سڑکیں نہ صرف زمین کی ملکیت کے حقوق کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ مرجانی چٹانوں، جھیلوں اور قدرتی حفاظتی نظام کو بھی تباہ کر دیں گی، جو کٹاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ یہ خطرات ایسے خطے میں مزید سنگین ہیں جو بھارت میں سمندری سطح میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha